خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 392

خطبات محمود ۳۹۲ سال ۱۹۳۰ء مومن سوائے خدا کے کسی سے نہیں ڈرتا (فرموده ۹ - مئی ۱۹۳۰ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں جماعت کے احباب کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ اس وقت ہمارے ملک کا سیاسی مطلع نہایت ہی تاریک ہو رہا ہے اور ایک طرف اگر حب الوطنی کے جذبات ہندوستانیوں کو ایک جانب کھینچ رہے ہیں تو دوسری طرف قانون کی پابندی اور امن کا قیام جس کا حکم شریعت نے دیا ہے دوسری جانب کھینچ رہے ہیں۔میں نے بتایا تھا کہ مؤمن کا راستہ درمیانی ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ صحیح راہ اختیار کرتا ہے خواہ کوئی اس کے متعلق کچھ کہے اور میں نے جماعت کو مشورہ دیا تھا کہ ایک طرف تو وہ حب الوطنی کے جذبات کو دینے اور کمزور نہ ہونے دیں اور دوسری طرف ملک کی ترقی اور اصلاح کے لئے دوسروں سے کم احساسات ان کے دل میں نہ ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا تھا کہ اس بات کو بھی مدنظر رکھیں کہ کوئی اچھی بات بُڑے طریق سے حاصل کرنا جائز نہیں اچھے کام کے لئے اسلام اچھا طریقہ ہی اختیار کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔اسلام اس امر کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ اچھے مقصد کے لئے جو ذرائع اختیار کئے جائیں وہ گندے ہوں۔صداقت کی تلاش اور جستجو کے لئے صداقت کو کبھی بھی ہاتھ سے نہیں دینا چاہئے جو نا جائز طریق کی محتاج ہو وہ صداقت ہر گز نہیں کہلا سکتی اور یا پھر اس کا محافظ و نگران صداقت سے تعلق نہیں رکھتا۔اس خطبہ کے بعد ملک کے حالات اور بھی زیادہ تشویشناک ہو گئے ہیں اور شائد کچھ عرصہ تک یہ حالت اسی طرح ترقی کرتی چلی جائے۔اس لئے میں ایک دفعہ پھر یہ