خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 393

خطبات محمود ۳۹۳ سال ۱۹۳۰ء تو نہیں کہ اپنے اصلی مقصد سے ہٹ کر کیونکہ جائز اور صحیح سیاست بھی اسلام کا ایک حصہ ہی ہے مگر اس اعلیٰ فرض کے علاوہ جو ہماری جماعت کے قیام کا اصلی مقصد ہے یعنی تبلیغ ان سیاسی امور کی طرف جماعت کی توجہ کو منعطف کراتا ہوں جو اگر چہ جائز ہیں اور ان میں حصہ لینا پسندیدہ ہے مگر وہ ایسے اعلیٰ نہیں جیسے تبلیغ واشاعت اسلام۔میں نے بتایا تھا کہ ہمیں کانگریس کے مقاصد سے بھی ہمدردی ہے اور گورنمنٹ کے قیام امن کی خواہش سے بھی لیکن شورش کو ہم نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اس خطبہ کے بعد ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ عدم تشدد اور NON-VIOLENCE جس کا اظہار کانگریس کی طرف سے ہمیشہ ہوتا رہا ہے تشدد کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے اور میں تو اپنی ذات میں اس بات کا قائل ہوں کہ کانگریس جس چیز کا نام عدم تشدد رکھتی ہے وہ حقیقت میں عدم تشدد نہیں یہ عدم تشدد کا بالکل نیا رنگ ہے۔ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ گاندھی جی نے اپنی فراست اور حکمت عملی کو کام میں لاتے ہوئے تشدد کا نیا طریق ایجاد کر لیا ہے لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ حقیقتا عدم تشدد ہی ہے۔اور اب تو ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ظاہراً تشدد کو بھی روا سمجھا جانے لگا ہے۔بعض مقامات پر کانگریسیوں کی طرف سے مجبور کر کے اور لوٹ مار کی دھمکیاں دے کر ہڑتال کرائی گئی اور جبر لوگوں کو سفر سے روکا گیا ہے اور جنہوں نے ان کی بات نہ مانی انہیں مارا اور پیٹا گیا جس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ لازما گورنمنٹ کو بھی مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔فساد ہو رہے ہیں گولیاں چلتی ہیں اور کئی لوگ مارے جاتے اور کئی زخمی ہوتے ہیں۔ان تکالیف کا اندازہ قادیان میں رہنے والے نہیں کر سکتے جو ان حالات میں باہر کی جماعتوں کو پیش آ رہی ہیں۔یہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارا جتھہ اور اثر ہے اور نہ صرف قادیان میں بلکہ ارد گرد کے دیہات میں بھی ہمارا رسوخ ہے لیکن باہر کے دوست اکیلے دو کیلے ہیں ان کی تعداد بہت کم ہے اس لئے انہیں بہت مشکلات پیش آ رہی ہیں۔اور اس وجہ سے باہر کے مقامات سے کئی خطوط آ رہے ہیں جن میں دوست دریافت کر رہے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے۔میں نے بار ہا بتایا ہے کہ مؤمن کو اپنے کاموں میں انسانوں سے نہیں ڈرنا چاہئے خواہ وہ گورنمنٹ ہو یا رعایا کے لوگ۔مؤمن کو بہا در بننا چاہئے اور کبھی کسی بڑی سے بڑی طاقت کے دباؤ اور تشدد کو ہرگز تسلیم نہیں کرنا چاہئے۔اسلام کی تعلیم یہی ہے کہ انسانوں کے دلوں سے