خطبات محمود (جلد 12) — Page 354
خطبات محمود سلام ۳۵ سال ۱۹۳۰ء کے سامنے بیان کرتا پھرے ہاں اگر بیان کرنا پڑے تو سچائی پر قائم رہے تا قوم میں بھی عزت ہو اور خدا تعالیٰ کے ہاں بھی۔جو شخص اپنی غلطی کو جھوٹ سے نہیں چھپا تا وہ قوم کی عزت کا مستحق ہے۔ایک دفعہ غیر احمدیوں کے جلسے کے موقع پر ہمارا ایک نو جوان مخالفوں کے اشتعال دلانے پر ان سے لڑ پڑا۔اگر وہ جھوٹ بول دیتا تو کبھی نہ پکڑا جاتا لیکن میں نے اسے کہا: جھوٹ بالکل نہ بولنا۔چنانچہ اس نے اقرار کر لیا کہ میں نے مارا ہے اور اس وجہ سے ہم بھی اس پر خوش ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی وہ اجر کا مستحق ہو گیا۔احمدی کسی گورنمنٹ سے ہرگز نہیں ڈرتے وہ محض احمدیت سے ڈرتے ہیں۔کم از کم میں تو کسی گورنمنٹ کے قانون سے شمہ بھر نہیں ڈرتا صرف اللہ تعالیٰ کے قانون سے ڈرتا ہوں۔اور حکومت کے قانون کی تعمیل محض اس لئے کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے وگرنہ برطانیہ کی شان و شوکت میری نظر میں کچھ حقیقت نہیں رکھتی کیونکہ بہر حال وہ ایک اجنبی حکومت ہے۔مجھے اگر اس سے اخلاص یا ہمدری ہے تو محض اللہ تعالی کیلئے اور یہی تعلق دیر پا اور قابل قدر ہوتا ہے۔چونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ امن سے رہو اس لئے اگر پولیس کا ایک سپاہی بھی نہ ہوتب بھی ہم کوئی ایسی کارروائی نہیں کریں گے جس سے امن میں خلل ہو۔لیکن اگر خدا تعالیٰ کسی بات کے کرنے کا حکم دیتا ہے تو خواہ پولیس کے سپاہی چھوڑ فو جیں بھی بیٹھی ہوں تب بھی پرواہ نہیں کریں گے۔مومن اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوتا ہے اس لئے تم سب اللہ تعالیٰ کے بندے بن جاؤ اور کسی سے ہرگز مت ڈرو۔دنیا کی زندگی چند روزہ ہے ہمیشہ کیلئے یہاں کوئی نہیں بیٹھ رہے گا۔ایک مسیح کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ آج تک زندہ ہے لیکن ہمارے مسیح نے آکر اسے بھی مار دیا اس لئے ایک احمدی کو تو دنیا میں ہمیشہ رہنے کے امکان کا کوئی شبہ بھی نہیں ہو سکتا۔ہم صرف ایک خدا کے ماننے والے ہیں جس بات کے کرنے کا خدا تعالیٰ کا حکم ہو وہ خواہ فوجیں بھی موجود ہوں ہم کر کے رہیں گے لیکن جس سے منع کیا ہو اُسے خواہ کوئی بھی دیکھنے والا نہ ہونہیں کریں گے۔یہ تعلیم ہے کہ جو میں دیتا ہوں اگر احمدیت کو قبول کیا ہے تو دلیر اور جری بنو۔مؤمن کا چہرہ دیکھ کر ہی معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ بہادر اور جری ہے۔بدر کی جنگ میں کفار بہت زیادہ تھے اور مسلمان بہت کم تھے۔کفار نے ایک آدمی کو بھیجا کہ جا کر دیکھو مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے۔اس نے اردگرد گھوڑا دوڑا کر دیکھا اور آکر کہا کہ مسلمانوں کی تعداد تو بہت قلیل ہے لیکن میں تمہیں مشورہ دوں گا کہ ان سے لڑائی مت