خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 355

خطبات محمود ۳۵۵ سال ۱۹۳۰ء کرو۔کفار نے کہا: تو بڑا بد دل ہے کہ تھوڑے آدمی دیکھ کر ڈر گیا۔اس نے کہا کہ بھائیو! میں نے وہاں آدمی نہیں دیکھے بلکہ دیکھا ہے کہ ان البلايا تحمل المنايا کے یعنی اونٹنیوں پر موتیں سوار ہیں۔میں نے جس چہرہ کو دیکھا ہے وہ گویا موت نظر آتی تھی۔پس مومن وہی ہے جس کے چہرہ کو دیکھ کر مخالف سمجھ لے کر یہ زمین پر آدمی نہیں بلکہ موت چل رہی ہے اس لئے مؤمن بنو اور ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرتے رہو اور دعائیں کرتے رہو۔یہ مت خیال کرو کہ ہم کمزور ہیں، ہماری دعائیں نہیں سنی جائیں گی۔اگر اُس کے بندے ہو تو وہ ضرور سنے گا۔ہاں جو بندگی سے نکل کر کفر اختیار کرلے وہ چونکہ باغی ہو جاتا ہے اس لئے اُس کی نہیں سنی جاتی۔پس عبد بن جاؤ تو اللہ تعالیٰ کی جنت تمہارے ساتھ ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ ہم اس کے پرستار بن سکیں اور کوئی طاقت اپنی ذات میں ہمیں ڈرانے والی نہ ہو۔ہم جس کا لحاظ کریں اللہ تعالیٰ کے لئے کریں وہ جس کی مخالفت کریں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے لئے ہی کریں۔النساء : ۱۴۶ سیرت ابن ہشام ( عربی ) جلد ۲ صفحه ۲۷۴ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء (الفضل ۱۱۔اپریل ۱۹۳۰ء)