خطبات محمود (جلد 12) — Page 292
خطبات محمود ۲۹۲ سال ۱۹۳۰ء آئے گی، گاندھی جی کو کون پوچھے گا۔فیصلہ تو ملک کی عام رائے کے مطابق ہوگا۔گاندھی جی کے متعلق کب گاؤں گاؤں اور شہر شہر سے رائے لی گئی اور کب وہ ہندوؤں کے لیڈر منتخب ہوئے وہ آپ ہی آپ لیڈر بن گئے ہیں۔اگر حکومت ملنے پر عوام نے کہہ دیا کہ ہمیں گاندھی جی کا فیصلہ منظور نہیں تو اُس وقت کیا کیا جائے گا اور یہ جواب صحیح بھی ہے۔کس نے انہیں اپنی لیڈری کے ما لئے چنا ہے؟ ان کے فیصلہ کی پابندی کے لئے اخلاقی طور پر بھی ہندو قوم ذمہ دار نہیں۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی انگریز آ کر ہندوستان سے معاہدہ کر جائے کہ ہندوستان کو آزاد کیا جاتا ہے۔جنگ عظیم کے دوران میں حجاز نے انگریزوں سے معاہدہ کیا جس پر ایک انگریزی جرنیل نے دستخط کر دیئے لیکن بعد میں انگریزوں نے کہہ دیا ہم نے کب اُس جرنیل کو معاہدہ کرنے کا اختیار دیا تھا چنانچہ وہ مسترد ہو گیا۔تو جب ملک آزاد ہو جائے گا اُس وقت اگر ہندو کہہ دیں کہ گاندھی ہے کون؟ ہم نے کب رائے عامہ سے اسے اپنا لیڈر تسلیم کیا۔وہ ایک کام کرنے والا آدمی تھا جس کی وجہ سے ہم اس کی عزت کرتے تھے۔وہ ہمارا قائم مقام ہرگز نہیں ہوسکتا تو کیا بنے گا ؟ سوائے اس کے کہ مسلمان بیوقوف سمجھے جائیں گے اور تمام دنیا ان پر ہنسے گی کہ پیش بندی کے بغیر وہ جنگ میں کود پڑے۔پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سالہا سال سے ہند و مسلمان تصفیہ حقوق کے لئے جھگڑ رہے ہیں لیکن آج تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا پھر کون کہہ سکتا ہے کہ آزادی ملتے ہی ایک دم سارے فیصلے ہو جائیں گے۔کیا یہ ممکن نہیں کہ اسی طرح دس پندرہ سال اور لگ جائیں اور پھر بھی فیصلہ نہ ہو۔اپنی صورت میں اتنا عرصہ ملک پر کس کی حکومت ہوگی اگر کہا جائے کہ عارضی طور پر انتظام کر لیا جائے گا تو پھر وہی سوال آئے گا کہ اس میں مسلمانوں کی نگہداشت کا کیا انتظام ہوگا اور پھر اگر فیصلہ کے بعد اسی عارضی حکومت نے حکومت سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا تو پھر کیا ہو گا۔غرض یہ بات کہ تصفیہ حقوق بعد میں ہو گا سراسر عقل کے خلاف بات ہے۔تجر بہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ممکن ہے کئی سال تک کوئی فیصلہ نہ ہو۔کیا اتنا عرصہ ہندوستان بغیر کسی حکومت کے رہے گا مگر حکومت کے بغیر کوئی ملک رہ نہیں سکتا۔کچھ عرصہ کے لئے ہی اگر یہاں کوئی حکومت نہ ہو تو نیپال اور افغانستان جیسی چھوٹی چھوٹی سلطنتیں ہی ملک کو لوٹ کر کھا جائیں۔انگریز ہندوستان پر اسی لئے قابض ہو گئے تھے کہ ملک میں کوئی بادشاہ نہ تھا۔مگر اُس وقت تو پھر بھی چھوٹے چھوٹے