خطبات محمود (جلد 12) — Page 276
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء ہے جو روحانی اور جسمانی کے درمیان ہوتا ہے جس کے لئے روزہ تیار کر دیتا ہے اور وہ شدائد کی برداشت اور وقت پڑنے پر محنت کی عادت ہے۔بعض اوقات قومی یا ملکی کاموں کے لئے ایسی حالت بھی آجاتی ہے اور یہ دنیا وی بھی ہوتی ہے جیسے ملک یا وطن کی خدمت۔اور دینی بھی ہوتی ہے جیسے جہاد۔اور روزہ سے یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ انسان اس مجاہدہ کے قابل ہو جاتا ہے۔پھر رمضان کے اندر یہ فائدہ بھی رکھا ہے کہ انسان معلوم کر سکے کہ اس کے دوسرے فاقہ زدہ بھائیوں کی حالت کیا ہے اور فاقہ میں انسان پر کیا گزرتی ہے۔اس سے وہ غرباء کی حالت کا اندازہ کر سکتا ہے۔اور یہ بات اسلام کی سب عبادتوں میں ہے کہ دوسروں کی حالت کا پتہ لگتار ہے۔نماز میں ادھر اُدھر دیکھنے اور باتیں کرنے سے منع کیا گیا ہے۔یہ ایک غلامی کی حالت ہے جس سے انسان اندازہ کر سکتا ہے کہ غلاموں کی حالت کیا ہوگی۔میں حیران ہوتا ہوں جب بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز میں توجہ نہیں قائم رہ سکتی حالانکہ نماز دس پندرہ منٹ کا کام ہوتا ہے۔ایسے لوگ غور کریں وہ لوگ جن کو چوبیس گھنٹہ ہی غلامی میں گزارنے ہوتے ہیں اور گھنٹوں گھٹنے ٹیک کر مو ڈب ایک ہی پوزیشن میں رہنا پڑتا ہے ان کا کیا حال ہوتا ہوگا۔تو نماز انسان کو لوگوں کی حالت سے آگاہ کر دیتی ہے۔حج میں اپنا وطن اور گھر بار چھوڑنا پڑتا ہے جس سے ان لوگوں کی حالت کا پتہ لگتا ہے جو جلا وطن کر دیے جاتے ہیں۔صدقہ و خیرات غربت کی حالت کا اندازہ کراتی ہے۔روزہ سے فاقہ زدہ بھائیوں کا پتہ لگتا ہے۔اسی طرح جب انسان حج کیلئے جاتا ہے تو اسے ان لوگوں کی حالت کا بھی علم ہوتا ہے جن کے پاس کپڑے نہیں ہوتے۔انسان کئی کپڑوں کا عادی ہوتا ہے لیکن وہاں صرف ایک ہی چادر باندھنی پڑتی ہے جس میں ادھر ادھر سے ٹھنڈی ہوا لگتی اور ان لوگوں کی حالت بتاتی ہے جن کے پاس کپڑے نہیں ہوتے یا کم ہوتے ہیں۔حضرت خلیفہ امسیح الاول کسی شخص کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ میرا اُن سے تعارف اس طرح ہوا کہ میں نے حج کے موقع پر انہیں دیکھا۔ہوا کی وجہ سے باقی لوگوں نے اپنے سر ڈھانپ لئے لیکن انہوں نے ادھر اُدھر اپنی چیزیں رکھ لیں جس سے میں نے سمجھا کہ ان میں زیادہ احساس ہے۔اور جس وقت جہاز میں سرد ہوا چلتی ہے تو جسم پر نا کافی کپڑا ہمیشہ ننگے رہنے والوں کی طرف بخوبی متوجہ کر دیتا ہے۔اس وجہ سے حج امراء کے لئے رکھا گیا ہے تا وہ غریبوں کی حالت سے آگاہ رہ سکیں۔تو اسلام کی تمام عبادتوں میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ ایک دوسرے کی حالت سے آگا ہی