خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 260

خطبات محمود ۲۶۰ سال ۱۹۳۰ء کوئی ایک مثال ایسی بھی ہو سکتی ہے اور کوئی اطلاع دینے والا اس سے ڈرتا ہے تو وہ یوں لکھے کہ مجھ سے اس بارے میں جو کچھ پوچھا جائے گا میں بتا دوں گا تو اس طرح لکھنے سے اطمینان ہو جائے گا کہ اس نے یونہی گپ نہیں لکھی بلکہ واقعہ لکھا ہے۔تیسری بات ایک اور کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ اگر کوئی شخص اس قسم کی شکایت کرے کہ اس کا ثبوت اس کے پاس سوائے اپنی ذات کے کوئی نہ ہو۔مثلاً اس نے کسی کو فتنہ کی بات کرتے سنایا دیکھا مگر اُس وقت وہ اکیلا ہی تھا اور کوئی گواہ نہ تھا۔یا یہ کہ اسے معلوم ہو کہ جن کے سامنے وہ بات کہی یا کی گئی وہ گواہی نہ دیں گے تو یوں لکھ سکتا ہے یہ بات فلاں کو میں نے کہتے یا کرتے دیکھا مگر اِس کا گواہ سوائے میرے اور کوئی نہ تھا۔یا یہ کہ فلاں فلاں کے سامنے فلاں بات ہوئی مگر مجھے پتہ ہے کہ وہ گواہی نہ دیں گے اس لئے میں بطور اطلاع یہ بات لکھتا ہوں۔مگر یا درکھنا چاہئے ایسی باتیں ذاتی نہ ہونی چاہئیں۔اگر کسی کی اپنی ذات سے کوئی قصور سرزد ہوا ہے تو اس کے متعلق ایسی شکایت کرنا گناہ ہے اور اگر کسی اور کی ذات کے متعلق ہے تو اس کا ذکر بھی گناہ ہے۔ہاں اگر ایسی بات جماعت اور سلسلہ سے تعلق رکھتی ہو تو اس کے متعلق اطلاع دینا گناہ نہیں بلکہ قومی فرض ہے۔مثلاً اگر کوئی کسی کو قومی مال کو نقصان پہنچاتے دیکھے یا سلسلہ اور جماعت کو بدنام کرتے دیکھے تو ایسے شخص کی رپورٹ دے سکتا ہے بغیر اس کے کہ اپنی ذات کے سوا اس کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو۔لیکن اگر کوئی کسی ایسی بدی میں مبتلاء ہو جو اس کی ذات سے تعلق رکھتی ہو تو اس کے متعلق خاموش رہنا چاہئے اور اس کے لئے دعا کرنی چاہئے کیونکہ ذاتی معاملات میں خدا تعالیٰ نے تاری کو ترجیح دی ہے مگر قومی معاملات میں اطلاع دینے کو ترجیح دی ہے۔قرآن کریم کو پڑھ کر دیکھ لو جہاں ذاتی بُرائی کے متعلق پردہ پوشی کی تلقین کی گئی ہے وہاں قومی بُرائی کا بیان کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔پس یہ فرق بھی سمجھ لینا چاہئے۔بعض لوگ دوسروں کی ذاتی برائیاں پہنچانے لگ جاتے ہیں۔ان کی طرف نہ صرف توجہ نہیں کی جاسکتی بلکہ ایسی باتیں بیان کرنے والوں کی اصلاح کے لئے میں انہیں ڈانٹ دیتا ہوں کیونکہ عیب چینی اور بد گوئی کو اسلام پسند نہیں کرتا۔ہاں جو باتیں جماعت اور سلسلہ کے خلاف ہوں ان کا بیان کرنا پسند کرتا ہوں خواہ اس طرح کسی انسان کو نقصان ہی پہنچے۔ایسے امور کے متعلق جب اطلاع دی جائے تو یوں نہ لکھا جائے کہ لوگ یہ کہتے