خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 234

خطبات محمود سهم سال ۱۹۲۹ء نہیں ہوگا۔تو قلب کی جو کیفیت ہو جب اس کے مشابہ چیز اس کے سامنے آئے وہ اسے فوراً قبول کر لیتا ہے۔اس ایک نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت سے نیک لوگ بھی نیکی سے محروم رہ جاتے ہیں اور بڑے بڑے مضبوط ایمان والے بھی چھوٹی سی بات سے ابتلاء میں پڑ جاتے ہیں کیونکہ وہ اس بات کو مد نظر نہیں رکھتے کہ قلب کی کونسی کیفیتیں کونسے گناہوں میں انسان کو مبتلا ء کر دیتی ہیں۔اگر وہ زمیندار کے پیج کا مطالعہ کرنے کی طرح دل کا مطالعہ کرتے اور یہ دیکھتے کہ زمیندار اُس وقت بیج ڈالتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ یہ آگ آئے گا۔اسی طرح قلب کی کیفیات ہوتی ہیں اور اس پر بھی خاص وقت میں خاص بات کا اثر فورا ہو جاتا ہے تو بہت فائدہ اُٹھا سکتے۔طبائع کا میلان نیکی اور بدی پر بہت اثر رکھتا ہے۔ایک وقت انسان پر ایک بڑی سے بڑی بات کا اثر نہیں ہوتا لیکن دوسرے وقت ایک ادنی سی بات سے متاثر ہو جاتا ہے کیونکہ اُس وقت اس کے قلب کی ایسی کیفیت ہوتی ہے کہ جس میں وہ خاص بیج پڑنا مفید ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اچھا لیکچرار اپنی تائید میں مختلف دلائل دیا کرتا ہے صرف وہی پیش نہیں کرتا جو اُس کے نزدیک سب سے زیادہ مضبوط ہو کیونکہ ہر انسان پر ایک ہی دلیل اثر نہیں کرتی بلکہ مختلف لوگوں کے لئے مختلف دلائل اثر رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام فَلَمَّا تَوَقتی والی آیت کو وفات مسیح کی سب سے مضبوط دلیل قرار دیتے تھے اور اس کو اصل اور باقی کو اس کے تابع قرار دیتے تھے لیکن بیسیوں لوگ ایسے ہیں جن پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔لیکن اگر ان کے سامنے یہ بات پیش کی جائے کہ کیا یہ شرم کی بات نہیں کہ محمد رسول اللہ لی تو زمین میں مدفون ہوں اور حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسان پر ہوں تو وہ فورا متاثر ہو جائیں گے۔ان پر اُس وقت جذباتی رنگ ہوتا ہے اور محبت رسول کا جذ بہ غالب آیا ہوا ہوتا ہے اس لئے اُس وقت وہ بیج کا کام دے جاتا ہے۔لیکن اگر یہی دلیل ایک دوسرے آدمی کے سامنے پیش کی جائے جس کے قلب کی وہ حالت نہ ہو تو وہ فورا کہہ دے گا میں سمجھ گیا آپ میرے جذبات کو بھڑ کا کر دھوکا دینا چاہتے ہیں۔لیکن اس کے سامنے جب فَلَمَّا تَوَقتی والی دلیل پیش کی جائے تو فوراً اُس کی آنکھیں نیچی ہو جائیں گی۔اس لئے اچھا خطیب وہی ہے جو ایک ہی دلیل پیش نہیں کرتا کیونکہ ضروری نہیں کہ تمام سامعین کی قلبی کیفیات اسے قبول کرنے کیلئے تیار ہوں۔مختلف لوگوں کیلئے مختلف دلائل کی ضرورت ہوتی ہے۔پلا ؤ ایک اچھی غذا ہے لیکن کئی لوگ اس کے کھانے سے بیمار ہو جاتے ہیں۔خود مجھے چاول کھانے سے بخار