خطبات محمود (جلد 12) — Page 200
خطبات محمود ۲۷ ۱۹۲۹ء دیوانہ وار دعوت الی اللہ میں لگ جاؤ فرمود : ۲۲ - نومبر ۱۹۲۹ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں نے اپنی جماعت کے دوستوں کو متواتر اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ احمدیت کی تبلیغ کی طرف توجہ کریں اور اپنے اپنے علاقوں اور حلقہ اثر میں سلسلہ کی اشاعت کریں لیکن افسوس کہ ابھی تک جماعت نے اس طرف اس حد تک توجہ نہیں کی جس حد تک کہ ضروری ہے۔وہ کام کہ جسے کروڑوں آدمی نہیں کر سکتے وہ کام جسے کرنے سے حکومتیں قاصر رہا کرتی ہیں، وہ کام جس کو کرنے کے لئے روپیہ کی طاقت عاجز آ جایا کرتی ہے اس کام کوکوئی کمزور اور قلیل جماعت آرام سے بیٹھ کر کبھی نہیں کر سکتی۔دنیا کے اندر مختلف رنگ کی بڑائیاں ہوتی ہیں بعض بڑائیاں تو ایسی ہوتی ہیں جن کا دعویٰ کرنے والوں کا مقابلہ لوگ نہیں کرتے۔وہ اس بڑائی کے دعویدار کو یا تو چشم پوشی کی نگاہ دیکھتے ہیں یا اُس کا دعویٰ قبول کر لیتے ہیں۔مگر ایسے دعویداروں کے متعلق بھی ہم دیکھتے ہیں کہ نہایت ہی قلیل عرصہ میں ان کا مانا بڑا مشکل ہوتا ہے۔پھر بعض لوگ نیشنل لیڈر ہوتے ہیں ان کی قوم ان کو تسلیم کر لیتی ہے کیونکہ اُن کے اغراض و مقاصد متحد ہوتے ہیں اور اتحاد اغراض کی وجہ سے اُس قوم کے تمام افراد ایک ہاتھ پر جمع ہو جاتے ہیں مگر اس کے لئے بھی وقت چاہئے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا معاملہ بالکل جدا ہے۔ان کے متعلق دنیا کے اغراض و مقاصد متحد نہیں کیونکہ وہ کسی ایک ملک یا قوم کے لئے نہیں ہیں۔اگر وہ کسی خاص ملک