خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 199

خطبات محمود ١٩٩ تجویزیں کرتے ہیں۔غرض یہاں کا رکن دوسری جگہوں سے زیادہ قابل رکھنے کی ضرورت ہے۔یہاں کے ہیڈ ماسٹر کا مقابلہ بٹالہ یا ہوشیار پور یا کسی اور جگہ کے ہیڈ ماسٹر سے کرنا صحیح نہیں کیونکہ وہاں صرف اسی جگہ کے طالب علم ہوتے ہیں اور یہاں سارے ہندوستان سے آتے ہیں بلکہ ہندوستان سے باہر کے بھی آتے ہیں۔اور ہم یہاں کے ہیڈ ماسٹروں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کی تعلیم و تربیت کی طرف بہت زیادہ توجہ دیں۔یہ تو ہو سکتا ہے کسی آدمی کے متعلق ہمارے اندازہ میں غلطی ہو جائے اور وہ اس کام کا اپنے آپ کو اہل نہ ثابت کر سکے لیکن ہمیں امید یہی ہوتی ہے کہ آدمی ہمارے معیار کے مطابق ہو اور پھر اسے تنخواہ بھی اسی معیار کے مطابق ملنی چاہئے اور انہی ذمہ داریوں کے لحاظ سے اس کی تنخواہ ہونی چاہئے جو اس پر عائد کی جاتی ہیں۔دیکھو اگر کوئی شخص تین لاکھ سپاہیوں کا کمانڈر بنایا جائے تو چاہے اس کے تقرر میں غلطی ہو لیکن اس کی تنخواہ ضرور اسی معیار کے مطابق مقرر کی جائے گی۔بعض دفعہ کہہ دیا جاتا ہے کہ فلاں کا رکن تو اس قابل نہیں کہ اسے اس قدر تنخواہ دی جائے۔لیکن سوال یہ ہے کہ اسے ہم نے جس کام کا اہل سمجھ کر مقر ر کیا اس کے لحاظ سے کیا تنخواہ ہونی چاہئے؟ جو ذمہ داریاں اس پر رکھی جاتی ہیں ان کا لحاظ ہونا چاہئے۔مگر یہاں بہت سے لوگ اپنی لیاقت اور اُمنگوں کے لحاظ سے خصوصاً وہ نوجوان جنہوں نے زندگیاں وقف کر رکھی ہیں بہت قلیل گزارے لے رہے ہیں۔اس پر تین تین ماہ تک تنخواہ کا نہ ملنا اور بھی موجب تکلیف ہے اسلئے نہ صرف جلسہ سالانہ کے اخراجات پورے کرنے کی کوشش کی جائے بلکہ جماعت کو چاہئے کوشش کر کے اس بوجھ کو بھی جو اس وقت پڑا ہوا ہے دُور کر دے۔اور کارکنوں کو چاہئے کہ اس کے لئے خاص کوشش کریں اور اگر وہ کوشش کریں تو یہ کوئی مشکل بات نہیں کیونکہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑھ رہی ہے۔اگر چہ ملک کے ایک حصہ میں قحط ہے مگر ایسے بھی جصص ہیں جہاں اس کا اثر نہیں اس لئے اگر کوشش کی جائے تو وہاں سے کمی پوری ہوسکتی ہے۔میں خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں ترقی کے راستوں پر چلنے کی توفیق عطا کرے اور ہمارے ایمانوں میں اس قدر قوت و طاقت دے کہ ہم اپنی ذات میں ہی انذار اور تبشیر کے حامل ہوسکیں اور نیکی کے کام کرنے کی خود بخود ہم میں تحریک ہو سکے۔آمین۔(الفضل ۲۲۔نومبر ۱۹۲۹ء) ا تذکرہ صفحہ ۳۶۔ایڈیشن چہارم تذکره صفحه ۵۰۔ایڈیشن چهارم