خطبات محمود (جلد 12) — Page 198
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء معاملة تعلق رکھتا ہے وہ براہ راست ملامت کا متحمل نہیں ہوسکتا تو کسی اور کو مخاطب کر کے سنا دیتے۔آپ نے مجھے لکھا لآتَخْشِ عَنْ ذِي الْعَرْشِ افلالا یعنی عرش کے مالک سے یہ امید نہ رکھو کہ وہ رزق میں کمی کر دے گا۔میں نے اس پر ایک نوٹ لکھ کر انجمن میں بھجوا دیا کہ ہمیں اپنا پورا زور لگا دینا چاہئے خدا تعالیٰ خود برکت ڈالے گا اور میں نے خود چند ایک دوستوں کو ساتھ لے کر یہاں قادیان سے چندہ کیا باہر بھی تحریک کی گئی اور تمام اخراجات پورے ہو گئے۔تو اللہ تعالیٰ خود سامان پیدا کر دیتا ہے ہمیں ڈرنا نہیں چاہئے اور قربانی کے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے کیونکہ ایمان کی آزمائش کا یہی معیار ہمارے پاس ہے۔ہمارے ہاتھ میں تلوار تو ہے نہیں یہی معیار ہے جس سے اخلاص کا پتہ لگ سکتا ہے اور اگر جماعت میں بعض کمزور بھی ہوں تو بھی ایسے مواقع ان کی بھی ترقی کا موجب ہو جاتے ہیں۔پس میں قادیان کی جماعت کو جو اس وقت میری پہلی مخاطب ہے اور باہر کی جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلسہ کے انتظام کی طرف پوری توجہ کریں۔پچھلے سال قادیان کی جماعت کا چندہ جلسہ سالا نہ نسبتا کم تھا اور کارکنوں کا دوسرے لوگوں سے بہت کم تھا۔شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ میں اُن ایام میں بیمار تھا اور کوئی تحریک نہ کر سکا تھا۔بعض دشمن اعتراض کیا کرتے ہیں کہ کارکنوں سے زبر دستی چندہ لیا جاتا ہے۔گذشتہ سال کارکنوں کا چندہ میں کم حصہ لینا اس اعتراض کا جواب ہے مگر پھر بھی انہیں یا درکھنا چاہئے۔یہ کوئی خوبی نہیں کہ دشمن کا منہ توڑنے کے لئے انسان خدا کے سامنے روسیاہ ہو جائے اس کا جواب تو ہو گیا لیکن کارکنوں کے لئے یہ تعریف کا موجب نہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ اس سال اس غفلت کا بھی ازالہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔اگر چہ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ان میں سے بعض کو تین تین ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں لیکن دفتر والوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے ایسا انتظام کیا ہے کہ یہ چندہ سارے سال پر پھیلا دیا جائے۔اگر چہ یوں بھی بوجھ ہو گا پہلے ہی یہاں کے کارکنوں کی تنخواہیں قلیل ہیں اور اس قدر قلیل نہیں کہ اگر کوئی کارکن چلا جائے تو اس کا قائم مقام نہیں ملتا۔پھر یہاں آدمی بھی قابل ترین رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ یہاں کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں۔مثلا یہاں کے ہائی سکول مدرسہ احمدیہ جامعہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر صاحبان پر جو ذمہ داری ہے وہ باہر کے ہیڈ ماسٹروں پر نہیں ہوسکتی ان حالات میں بہت لائق آدمی کی ضرورت ہوتی ہے۔مگر بعض ایسے آدمی جب دیکھتے ہیں که تنخواہ اس قدر قلیل ہے کہ وہ گزارہ نہیں کر سکتے تو کئی چلے جاتے ہیں اور کئی چلے جانے کی