خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 177

خطبات محمود 166 سال ۱۹۲۹ء کے خواہش مند تھے کہ کسی طرح ذبح کرنے کی اجازت ہو جائے۔مگر جیسا کہ دوست جانتے ہیں میں ہمیشہ اس میں روک ڈالتا رہا اور روک ڈالنے کی وجہ یہ تھی کہ ہم لوگ ایک خاص کام کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمام دنیا سے علیحدہ کر کے تبلیغ اسلام کے لئے مخصوص کر دیا ہے۔میں ڈرتا تھا کہ ایسا نہ ہو اس سے ہم اپنے کام سے دور ہو جائیں اور ہماری توجہ بعض دوسرے امور کی طرف جو خواہ کتنے بھی ضروری کیوں نہ ہوں مگر ہمارے اصل مقصد پر مقدم نہیں ہو سکتے نہ پھر جائے اور اس کے علاوہ یہ وجہ بھی تھی کہ قدرتی طور پر میری طبیعت اللہ تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے کہ دوسرے کا لحاظ کرنے پر بسا اوقات میں مجبور ہو جاتا ہوں۔پس مجھے پسند نہیں تھا کہ ہماری جو ہمسایہ اقوام ہیں ان کے احساسات کا لحاظ جس حد تک ہم اگر سکتے ہیں نہ کریں۔لیکن اللہ تعالیٰ جو غیوں کا جاننے والا ہے اور جو اُن باتوں کو دیکھتا ہے جن تک ہماری نگاہیں نہیں پہنچ سکتیں وہ کچھ اور چاہتا تھا اور اُس کی حکمت کے ماتحت ہماری جماعت اور دوسرے لوگوں کی یہ خواہش بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ میں نے سمجھا اب اس میں روک ڈالنا مناسب نہیں اور میں نے اجازت دیدی که درخواست دیدی جائے۔میں سمجھتا ہوں وہ دوست جو اس کے اجراء کے لئے مصر تھے ان کے ذہن میں یہ حالات نہیں تھے وگرنہ وہ بھی میرے مؤید ہوتے اور کہتے اور صبر کر لیا جائے۔یوں بھی انسان گوشت کھانے سے رک جاتا ہے۔بیمار ہو جاتا ہے اس لئے گوشت نہیں کھا سکتا یا زیادہ شادیاں کرنی پڑیں یا اولاد زیادہ ہو تو اخراجات بڑھ جاتے ہیں یہ سب حالتیں انسان کو برداشت کرنی ہی پڑتی ہیں۔پس اگر ان کے ذہن میں یہ باتیں ہوتیں تو ممکن ہے وہ بھی یہی نقطہ نگاہ اختیار کر لیتے اور خیال کر لیتے گوشت نہ ملا تو نہ سہی یا یہ کہہ دیتے چلو تین آہنہ سیر نہ سہی آٹھ آنہ سیر ہی کھالیں گے۔سیر نہ کھائیں گے آدھ سیر پر ہی گزارہ کرلیں گے۔لیکن چونکہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ غیب میں کیا مقدر ہے اور انہیں یہی امید تھی کہ ادھر مذبح گھلا اُدھر گوشت کی کثرت ہو جائے گی اس لئے وہ میرے انکار کو واجب دبا ؤ خیال کرانے لگے حتی کہ بعض گھبرا کر آئین حکومت کے خلاف کارروائیاں کرنے لگے جس کی وجہ سے انہیں سزا دینی پڑتی تھی۔اور بعض کی چہ میگوئیاں اور اعتراضات جو مجھ تک پہنچتے تھے بتاتے تھے کہ وہ اسے اہم اور ضروری چیز سمجھتے ہیں۔غرض اس کشمکش میں وہ دن آ گیا کہ میں نے سمجھا غیب کو کھولنا میرے اختیار میں نہیں۔چونکہ لوگوں کا مطالبہ درست اور جائز ہے مجھے چاہئے غیب کو غیب دان پر چھوڑ دوں اور اجازت