خطبات محمود (جلد 12) — Page 129
۱۹۲۹ ۱۲۹ خطبات محمود خدا تعالی کی پیدا کی ہوئی چیزوں کی خوبیاں بیان کرنا اس وقت میرا مقصد نہیں بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ جب ہم اُن چیزوں میں بھی جنہیں مُصر خیال کیا جاتا ہے فوائد دیکھتے ہیں تو جو چیزیں ہمارے لئے فائدہ رساں ہیں ان کی کیسی قدر کرنی چاہئے اور ان کا ہمارے لئے مہیا کیا جانا خدا تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے۔خدا تعالیٰ کے احسانوں میں سے ایک انبیاء کا وجود ہے مگر بہت سے لوگوں کو ٹھوکر لگی ہے وہ خیال کرتے ہیں شریعت کا لانا ہر نبی کیلئے ضروری ہے۔نادان نہیں جانتے کہ دنیا میں خدا نبی کس غرض کیلئے بھیجتا ہے۔نبی کی بعثت کی غرض لوگوں کو نمونہ بن کر دکھانا ہوتا ہے۔وہ خدائی تعلیم پر چل کر لوگوں کو بتا تا ہے کہ خدا تم سے یہ چاہتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب جو ان کے بے وارث اور یتیم ہونے کی حالت میں کیا گیا آخر اس کا کیا سبب تھا ؟ پھر حضرت موسی حضرت على وَغَيْرَهُمْ مِنَ الأنبياء کا انتخاب جو کیا گیا۔تو کیوں؟ کیوں نہ کسی بڑے آدمی کا انتخاب کیا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت یہ سوال بھی ہوا۔ایک شخص جو شرک کے خلاف وعظ کیا کرتا تھا اس نے کہا اگر خدا نبوت کیلئے منتخب کرتا تو مجھے کرتا اس لئے میں نہیں مانتا۔تو یہ سوال ہوتا ہے کہ کیوں خدا ایسے شخص کا انتخاب کرتا ہے کسی بڑے آدمی کا انتخاب کیوں نہیں کرتا۔اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے شخص کا انتخاب کرتا ہے جولوگوں کیلئے نمونہ ہو۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور باقی انبیاء نمونہ تھے۔خدا تعالیٰ جو تعلیم دنیا کی ہدایت کیلئے بھیجتا ہے اس کے ساتھ ہی ایسے شخص کو بھی بھیجتا ہے جو اس تعلیم کا عملی نمونہ ہوتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کا عملی نمونہ تھے۔حضرت عیسی انجیل کے حضرت موسیٰ تو رات کے۔جب قرآن کریم اُتر ا تو ساتھ ہی مجسم قرآن یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا گیا۔حضرت عائشہ سے کسی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق دریافت کیا کہ کیسے تھے تو انہوں نے فرمایا۔كَانَ خُلُقه القرآن آپ کا خُلق قرآن تھا جو کچھ اس میں ہے اس کا عملی نمونہ آپ تھے۔آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح بیان کرنے کی بجائے کہہ د یا قرآن پڑھ لو جو کچھ اس میں ہے وہ سب کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں پایا جاتا تھا۔غرض انبیاء کا وجود دنیا میں نمونہ ہوتا ہے۔جس طرح نمونہ سے ٹھو کر نہیں لگ سکتی اسی طرح انبیاء کے وجود کے ساتھ بھی ٹھو کر نہیں لگ سکتی۔انبیا ء لوگوں کو زندہ کرنے آتے ہیں ان سے پہلے لوگ مُردہ ہو چکے ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مُردوں کو زندہ کیا۔