خطبات محمود (جلد 12) — Page 79
خطبات محمود 29 سال ۱۹۲۹ء خدا تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ انگلستان کی طاقت کی ابتداء بھی ایک عورت سے ہوئی اور انتہاء بھی عورت پر ہوئی۔یہ طاقت اور عظمت ملکہ الزبتھ کے زمانہ سے شروع ہوئی اور ملکہ وکٹوریہ کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے خبر دیدی۔سلطنت برطانیه تا هشت سال بعد ازاں ایام ضعف و اختلال کے اور یہ آٹھ سال جا کر ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر پورے ہو گئے۔ملکہ الزبتھ ایک دفعہ کسی کام کے لئے اپنے محل سے باہر نکلی اس کا قاعدہ تھا کہ اپنے ساتھ ہمیشہ بہت سے خوش وضع نو جوان رکھا کرتی تھی وہ اپنے دربار میں زرق برق اور بھر کیلے لباس والے خوش وضع نوجوانوں کو دیکھنا پسند کرتی تھی اور جس کا لباس اعلیٰ اور قیمتی نہ ہوا سے اپنے دربار میں نہیں آنے دیتی تھی اس لئے ہمیشہ اس کے اردگر دخوش وضع نو جوانوں کا ایک جمگھٹا لگا رہتا تھا۔راستہ میں جاتے ہوئے ایک جگہ کچھ کیچڑ آ گیا اگر چہ وہ بہت تھوڑی سی جگہ تھی جہاں کیچڑ تھا لیکن امیر البحر ریلے سے جو ایک مشہور امیر البحر گذرا ہے اور جو اُن خوش پوش نوجوانوں میں سے ایک تھا اس نے اپنا در باری کوٹ جو نہایت بیش قیمت تھا فوراً اُتارا اور اس کیچڑ کی جگہ پر ڈال دیا وہ کوٹ چونکہ بیش قیمت تھا اور چونکہ ملکہ کو یہ بات بالکل اچنبھا معلوم ہوئی اس لئے اس نے حیران ہو کر پوچھا۔ریلے یہ کیا ؟ ریلے نے جواب دیا ریلے کے کوٹ کا خراب ہونا اس سے بہتر ہے کہ ملکہ کا پیر خراب ہو۔ملکہ کو یہ بات بہت پسند آئی اور اُس نے ریلے کو بہت عروج پر پہنچا دیا اگر چہ انجام کار اسی کے ہاتھ سے وہ تباہ بھی ہو گیا۔یہ مثال ہے جس سے سبق حاصل ہوتا ہے۔ریلے تھا تو وضع کا پابند لیکن جب ایک ت اس کے سامنے پیش آئی تو اس نے اپنے فیشن اور پابندی وضع کو اس پر قربان کر دیا۔پس اگر مشخص ایک ملکہ کی خوشنودی کے لئے وضع قطع کو چھوڑ سکتا ہے فیشن کی دلدادگی کو قربان کر سکتا ہے تو سوچنا چاہنے کہ دین کی ترقی کے لئے اسلام کی اشاعت کے لئے مذہب کے ثبات کے لئے اور اپنے پیدا کرنے والے کی رضا کے لئے کیا کچھ نہیں کیا جا سکتا کیا ایک مسلمان کو یہ مقصد اتنا بھی پیارا نہیں ہونا چاہئے جتنار یلے کو الز بتھ کی خوشنودی تھی۔یا درکھو مقاصد کا اعلیٰ اور عمدہ ہونا کافی نہیں ہوتا جب تک قربانی اور فدائیت بھی اس کے مطابق نہ کی جائے۔دنیا کی کوئی چیز جسے خدا نے حرام نہیں کیا نا جائز نہیں۔اعلیٰ لباس پہنا اعلیٰ قسم