خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 78

خطبات محمود LA سال ۱۹۲۹ء جو چیز دین کے راستہ میں روک ہوا سے دور کر دو فرموده ۲۹ - مارچ ۱۹۲۹ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : انسان اپنی کوششوں اور سعیوں میں مختلف حیثیتیں رکھتا ہے۔کوئی آدمی تو دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ اس کی کوشش اور سعی ایک محدود دائرہ میں ہوتی ہے اور کوئی انسان ایسا ہوتا ہے کہ اس کی کوشش اور سعی اپنے مقصود کے مطابق ہوتی ہے۔بعض لوگ خواہ کتنا ہی ضروری کام کیوں نہ ہو چلتے وقت اس امر کا لحاظ ضرور رکھیں گے کہ پتلون کی سلوٹ خراب نہ ہو یا ان کے کوٹ میں کوئی بدصورت شکن نہ پڑ جائے۔وہ تیز بھی چلیں گے لیکن اپنی وضع اور دستور کا پاس ہر وقت ان کی کوششوں کو محدود کر تا رہے گا۔لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ملیں گے جو خواہ وضع قطع کے نہایت پابند اور فیشن کے دلدادہ ہوں۔لیکن جس وقت ان کے سامنے کوئی مقصد ہو گا اس کے حصول کے لئے وہ فیشن اور پابندی وضع کو قربان کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔اگر مقصد کے حاصل کرنے کے لئے دوڑنا پڑے تو وہ دوڑ نے لگ جائیں گئے اگر زمین پر بیٹھنے کا موقع آئے تو بیٹھ جائیں گئے، اگر گرد و غبار میں چلنے کی ضرورت ہو تو بلا تکلف چل پڑیں گے۔اصل چیز جو ان کے سامنے ہوتی ہے وہ ان کا مقصود اور مدعا ہوتا ہے اور اس کے لئے وہ درمیانی چیزوں کو قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار اور آمادہ رہتے ہیں۔تاریخ انگلستان کا ایک واقعہ ہے جس سے اس مضمون کی حقیقت پر بہت کچھ روشنی پڑ سکتی ہے۔ملکہ الزبتھ انگلستان کی ایک نہایت مشہور ملکہ گزری ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ انگلستان کی موجودہ عظمت اور طاقت کی بنیاد اس کے زمانہ میں ہی پڑی ہے۔یہ