خطبات محمود (جلد 12) — Page 546
خطبات محمود ۵۴۶ سال ۱۹۳۰ آپ نے فرمایا ہمارے گھروں میں سے تو ایک مکان بھی لوگوں نے نہیں چھوڑا۔مگر آپ نے یہ سب کچھ برداشت کر کے بتا دیا کہ انسان کے اخلاق کیسے ہونے چاہئیں اور اس نمونہ کے بعد ہمارے لئے اور کیا چیز باقی رہ جاتی ہے۔اس زمانہ میں ہر شخص کے دل میں کامیابی کا خیال ہے اور اسی طرح ہم میں بھی ہے۔ہماری قوم بھی اپنے ملک کو اسی طرح معز ز دیکھنا چاہتی ہے جس طرح اور لوگ۔اور ہمیں تو ایک منٹ کے لئے بھی یہ خیال نہیں آ سکتا کہ گاندھی، نہرو وغیرہ ہم سے زیادہ آزادی وطن کے دلدادہ ہیں بلکہ مجھ میں تو یہ خواہش اتنی شدید ہے اور میں کئی دفعہ اس خیال کا اظہار بھی کر چکا ہوں کہ اگر میں احمد ی نہ ہوتا تو شاید میں سیاسی لحاظ سے بالکل ایکسٹریمسٹ ہوتا کیونکہ فطری طور پر آزادی اور خریت کا جذبہ میرے اندر بہت شدت کے ساتھ موجود ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی ہر چیز حد بندیوں کے نیچے ہے اور اگر ان کی پابندی نہ کریں تو عدل و انصاف باقی نہیں رہ سکتا۔آزادی اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں ہم اس لئے آزادی کو پسند کرتے ہیں کہ اچھے عملوں کی توفیق مل سکے۔اس وقت انصاف انگریزوں کے ہاتھ میں ہے وہی قانون بناتے ہیں جن سے عدل و انصاف کا منشاء پورا ہوتا ہے پھر ملک کے مصیبت زدہ لوگوں سے ہمدردی بھی حکومت ہی کرتی ہے۔اور ہمارے اندر آزادی کی جو خواہش ہے وہ اسی وجہ سے ہے کہ ان نیک کاموں میں ہمارا بھی دخل ہے اور یہ ثواب اور نیک نامی حاصل کرنے کا ہمیں بھی موقع مل سکے۔پس جو لوگ آزادی کے لئے کوشش کرتے ہیں وہ لفظ آزادی کے لئے نہیں بلکہ نیکی کیلئے اس کی خواہش کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں ملک کی تجارت، عزت اور علوم کو بڑھانے میں ہمارا بھی دخل ہو۔اب سب کچھ انگریزوں کے ہاتھ میں ہے مگر قدرتی طور پر ہمارا دل چاہتا ہے کہ ہم بھی کریں۔اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ کسی نے ہزار روپیہ صدقہ کے لئے رکھا ہوا ہو اور اس کا ہمسایہ اُسے اُٹھا کر لوگوں میں بانٹ دے اس پر وہ اس سے ضرور لڑے گا کہ تم نے کیوں بانٹ دیا اور وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ آخر تم نے بھی تو بانٹنا ہی تھا۔اس جواب سے وہ کبھی خوش نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ کہے گا کہ روپیہ چونکہ میرا تھا اس لئے میرے ہی ہاتھ سے تقسیم بھی ہونا چاہئے تھا۔اس کے متعلق مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا ایک بڑا افسر اور ایک اس کا ماتحت ایک دفعہ ڈپٹی کمشنر سے ملنے گئے بڑے کے پاس ایک ٹوکری میں تحفہ وغیرہ تھا جب اندر جانے لگے تو ماتحت نے کہا لائیے یہ