خطبات محمود (جلد 12) — Page 533
خطبات محمود ۵۳۳ سال چھوٹے قد والے دنیا میں اندھیر مچادیتے ہیں۔گورنمنٹ کے افسروں کو اگر کہا جائے کہ جاؤ جا کر کوئی جرنیل تلاش کرو تو وہ ضرور کسی بڑے جسم اور چوڑے سینہ والے کو لیں گے اور پھر اس کا دماغی امتحان کریں گے مگر ممکن ہے وہ قابل نہ ہو۔لیکن اللہ تعالیٰ کی نگاہ چونکہ ہر جگہ پڑتی ہے اس لئے وہ دُور اُفتادہ مقامات اور دنیا کی نظروں سے اوجھل لوگوں کو جو بادشاہ اور سرکاری افسروں کی نظر سے مخفی ہوتے ہیں دیکھے گا اور ان سے بظاہر معمولی حیثیت رکھنے والے مگر دراصل صحیح قابلیت والے کسی شخص کو چُن لے گا۔کئی جرنیل دنیا میں ایسے ملتے ہیں جو ابتداء میں نہایت ذلیل اور پست ہمت سمجھے گئے مگر بعد میں انہوں نے دنیا کو حیران کر دیا۔نپولین اتنا کمزور تھا کہ اس کے لئے خاص طور پر بندوق بنوائی جاتی تھی کیونکہ وہ بوجھل بندوق نہ اُٹھا سکتا تھا اور اگر وہ سپاہیوں میں بھرتی ہونے کے لئے آتا تو یقینا رڈ کیا جاتا مگر یہ اتفاق تھا کہ وہ براہ راست افسروں میں بھرتی ہو گیا اور ابتداء میں اُس نے کوئی خاص ترقی بھی نہیں کی بلکہ بالکل معمولی حیثیت میں رہا یہاں تک کہ فرانس پر ایک نہایت نازک وقت آیا جو تمام مدبرین کے دماغی امتحان کا وقت تھا اس میں وہ سب رہ گئے اور صاف نظر آنے لگا کہ دشمن بہت جلد پیرس کو فتح کر لے گا اور اُسے بچانے کے لئے بڑے بڑے جرنیل تدبیر کرنے سے عاجز آگئے۔اُس وقت ایک ممبر پارلیمنٹ میں اُٹھا اور اُس نے کہا پیرس تباہ ہو رہا ہے اگر میری بات مانو تو اس وقت صرف ایک شخص ہے جو ہمیں بچا سکتا ہے اور وہ نپولین ہے۔نپولین اُس وقت نہایت معمولی عہد یدار تھا اور اسے کوئی جانتا بھی نہ تھا۔اس ممبر نے کہا۔نہایت نازک وقت ہے اس کا بھی تجربہ کر لو۔چنانچہ نپولین کو بلایا گیا اور اُس کے سپر د تمام انتظام کر دیا گیا نتیجہ یہ ہوا کہ چند ہی دن گزرے تھے کہ وہی سپاہی جو روز بروز کم ہوتے جا رہے تھے اور وہ افسر جو دن رات شراب کے نشہ میں چور رہتے تھے ان میں یکدم تغیر شروع ہو گیا اور دشمن کی فوج بُری طرح شکست کھا کر بھاگی اور نپولین بعد میں فرانس کا بادشاہ ہو گیا حالانکہ جسمانی لحاظ سے وہ اتنا کمزور تھا کہ کوئی نگاہ اُسے منتخب نہ کر سکتی تھی۔انسانی نگاہ میں اُس کی کوئی حیثیت نہ تھی لیکن اللہ تعالیٰ اگر بھرتی کرتا تو ابتداء میں ہی نپولین کو ضرور چھپتا یا ممکن ہے اس سے بھی بہتر آدمی اس کی نگاہ میں کوئی اور ہوتا۔تو اللہ تعالیٰ کسی کام کے لئے جن لوگوں کا انتخاب کرتا ہے اُن کے اندر اس کام کے کرنے کی قابلیت ضرور ہوتی ہے پھر اگر کوئی کوتا ہی ہو تو ان کے ہمت ہار دینے کی وجہ سے ہی ہو سکتی ہے۔دنیا کی نجات کے لئے اگر دنیا کی