خطبات محمود (جلد 12) — Page 497
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء حاصل ہے۔گویا ایک ہندو کے تعلیم حاصل کرنے سے ایک تو اس کی ذات کو فائدہ پہنچا اور ایک ہندو قوم کو۔ایک شخص انجینئری کی تعلیم حاصل کرتا ہے اس کا ایک فائدہ تو یہ ہو گا کہ اسے ہزار دو ہزار تنخواہ ملے گی اور ایک یہ کہ اس کی قوم کے سرکاری ملازموں میں اضافہ ہو گا۔اور جس قوم کی تعداد اس طرح زیادہ ہوگی اس کی آواز کو ایسی توجہ سے سنا جائے گا جس سے اوروں کی نہیں سنی جاتی۔تو چوتھی چیز جو کامیابی کے لئے ضروری ہے وہ قومی جتھہ اور قومی عزت ہے۔مسلمانوں میں بہت قابل تا جر موجود ہیں لیکن اگر وہ ایسے علاقہ میں چلے جائیں جہاں مسلمانوں میں تجارت کا رواج نہیں تو وہ ٹوٹ جاتے ہیں۔منڈی میں ہندو تا جزا کٹھے ہو کر بھاؤ گرا دیتے ہیں اور اسے فیل کر دیتے ہیں کیونکہ اس کے ساتھ جتھہ نہیں ہوتا۔تو کسی کام کا عارضی نتیجہ تو اپنی ذات کے لئے ہوتا ہے لیکن مستقل قوم کے لئے ہی ہوتا ہے۔کہتے ہیں ایک بادشاہ گزر رہا تھا اس نے دیکھا کہ ایک بوڑھا ایک ایسا درخت لگا رہا ہے جو بہت دیر میں پھل دینے والا تھا۔اس نے اسے کہا کہ بوڑھے تو کیوں وقت ضائع کرتا ہے اس درخت کے تیری زندگی میں پھل دینے کی کوئی توقع نہیں اس لئے تو اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔بوڑھے نے جواب دیا کہ اگر ہمارے باپ دادا بھی یہی خیال کرتے تو ہم آج مختلف پھل کس طرح کھا سکتے انہوں نے درخت لگائے اور ہم نے کھائے اور ہمارے لگائے ہوئے درختوں کے پھل ہماری آئندہ نسلیں کھائیں گی۔بادشاہ کو یہ بات پسند آئی اور اُس نے کہا زہ۔یعنی کیا ہی اچھی بات ہے اور اُس کا وزیر کو حکم تھا کہ جب میں کسی سے متعلق نہ کہوں اُسے فوراً ایک ہزار اشرفی انعام میں دے دی جائے تو وزیر نے ایک ہزار اشرفی کا توڑا اُس بوڑھے کو دے دیا۔اُس نے جھٹ بادشاہ سے کہا کہ دیکھ لیا آپ نے۔لوگوں کے لگائے ہوئے درخت تو مدتوں کے بعد پھل لاتے ہیں مگر میرے درخت نے لگاتے ہی پھل دے دیا۔بادشاہ نے پھر زہ کہا وزیر نے دوسرا تو ڑا بوڑھے کے حوالے کیا۔بوڑھے نے کہا کہ دوسروں کے درخت تو زیادہ سے زیادہ ایک مرتبہ سال میں پھل دیتے ہیں مگر میرے درخت نے ذرا سی دیر میں دو دفعہ پھل دے دیا۔بادشاہ نے پھر زہ کہا وزیر نے تیسرا تو ڑا بوڑھے کو دیا۔بادشاہ نے وزیر سے کہا چلو ! یہ بوڑھا تو ہمیں ٹوٹ لے گا۔تو کئی کام ایسے ہوتے ہیں جن کا ذاتی نتیجہ تو تھوڑا ہوتا ہے مگر قومی بہت ہوتا ہے۔اور بعض ایسے ہوتے ہیں جن کا فائدہ قوم کو ہی پہنچتا ہے مگر کامیابی کے لئے انہیں کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ایک سپاہی لڑائی پر جاتا