خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 494

خطبات محمود ۴۹۴ سال ۱۹۳۰ء سوائے ان صورتوں کے کہ گورنمنٹ کے کسی حکم یا نیم حکم سے ڈاڑھی پر کوئی پابندی عائد ہو جائے سب کو ڈاڑھی رکھنی چاہئے۔ہاں اس صورت میں ڈاڑھی نہ رکھنے کی اجازت ہو سکتی ہے کیونکہ سرکاری ملازمتوں کے لحاظ سے بھی ہمیں جماعت کو کمزور نہیں ہونے دینا چاہئے۔مگر یہ ایسی ہی صورت میں ہے جیسے بیماری کی حالت میں شراب کا استعمال جائز ہے اس لئے اس حالت والے کو چھوڑ کر باقی سب دوستوں کو ڈاڑھی رکھنی چاہئے اور اپنے بچوں کی بھی نگرانی کرنی چاہئے کہ وہ شعائر اسلامی کی پابندی کرنے والے ہیں اور اگر وہ نہ مانیں تو ان کا خرچ بند کر دیا جائے اسے کوئی صحیح الدماغ انسان جبر نہیں کہہ سکتا کیونکہ اگر کسی کا بچہ کہے کہ میں مرچیں کھاتا ہوں تو وہ اسے نہیں کھانے دے گا اگر وہ جبر نہیں تو اسے کس طرح جبر کہا جا سکتا ہے۔ہم اپنے بچے کے متعلق ایسا کر سکتے ہیں ہاں دوسرے کے لئے نہیں۔جیسے کہ ہمسائے کو کسی فعل سے باز رہنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا مگر اپنے بھائی کو کیا جا سکتا ہے اور اس کا نام جبر نہیں بلکہ نظام کی پابندی ہے اور نظام کی پابندی جبر نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندر بہت بڑے بڑے فوائد ہیں۔اور اس کے بغیر دنیا میں گزارہ ہی نہیں ( الفضل ۹ - اکتوبر ۱۹۳۰ء) ہو سکتا۔بخاری کتاب الاذان باب الزاق المنكب بالمنكب والقدم بالقدم بالصف مسلم كتاب الطهارة باب خصال الفطرة