خطبات محمود (جلد 12) — Page 493
خطبات محمود ۴۹۳ سال ۱۹۳۰ء میں امید کرتا ہوں کہ ذمہ دار افسر اس بات کا خاص خیال رکھیں گے اور جماعت کے احباب سے بھی مجھے امید ہے کہ اپنے بچوں کو شعائر اسلامی کا پابند بنانے کی پوری پوری کوشش کریں گے۔یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ان باتوں کا فائدہ کیا ہے یہی فائدہ بتانے کے لئے میں نے یہ لمبی چوڑی تمہید بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ ہر چیز کے فائدے الگ الگ اور موقع کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔بعض چیزوں کو پہچاننا ہر ایک کا کام نہیں اہلِ نظر ہی ان کی قدرو قیمت کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور اس لئے ان کا حکم نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ایک ڈاکٹر ایک نسخہ دیتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ دوائیاں اسی نسبت سے ملائی جائیں۔جو چیز دو قطرے لکھی ہے اس کے دو ہی قطرے ڈالے جائیں تین نہ ہوں۔وہ اس کی کوئی وجہ نہیں بتا سکتا کہ کیوں ایسا کیا جائے لیکن وہ کہتا ہے میرا سالہا سال کا تجربہ یہی کہتا ہے کہ اس طرح فائدہ ہوگا اور ہم اگر اس ڈاکٹر کو تجربہ کار مانتے ہیں تو اس کی بات کو ضرور قابل عمل بھی سمجھتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں خواہ وہ ہماری عقل کے خلاف ہی ہو۔پھر کس قدر افسوس کا مقام ہوگا کہ ہم ایک ڈاکٹر کی بات تو بغیر کسی عقلی دلیل کے ماننے کے لئے تیار ہوں لیکن خاتم النبین عملے کی کسی بات کے متعلق پوچھیں کہ اس کا کیا فائدہ ہے۔ایک معمولی حیثیت کے ڈاکٹر کی بات تو ہم مان لیں لیکن نبیوں کے سردار کی بات کے متعلق دلائل پوچھیں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہمارے اندر اطاعت کی روح نہیں ہے وگر نہ بغیر کسی فائدہ کا خیال کئے اسے مان لیتے۔پس احباب کو چاہئے کہ اپنے بچوں کو شعائر اسلامی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا عادی بنائیں۔کیا یہ کوئی کم فائدہ ہے کہ ساری دنیا ایک طرف جارہی ہے اور ہم کہتے ہیں ہم اُس طرف چلیں گے جس طرح محمد رسول اللہ لہ لے جانا چاہتے ہیں اس سے دنیا پر کتنا رُعب پڑے گا۔د نیا رنگا رنگ کی دلچسپیوں اور ترغیبات سے اپنی طرف کھینچ رہی ہو مگر ہم میں سے ہر ایک یہی کہے کہ میں اُس راستہ پر جاؤں گا جو محمد رسول اللہ اللہ کا تجویز کردہ ہے تو لا زما دنیا کہے گی کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے خلاف کوئی بات نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس کے متبعین اس کے گرویدہ اور جاشار ہیں۔لیکن جو شخص فائدے گن کر مانتا ہے وہ دراصل مانتا نہیں مانتا وہی ہے جو ایک دفعہ یہ سمجھ کر کہ میں جس کی اطاعت اختیار کر رہا ہوں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے آئندہ کے لئے عہد کر لیتا ہے کہ جو نیک بات یہ کہے گا اسے مانوں گا اور اطاعت کی اس روح کو مد نظر رکھتے ہوئے