خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 443

خطبات محمود سم سم مهم سال ۱۹۳۰ء پیٹ کی درد لی۔جس کے پیٹ میں درد تھی اس نے سوچا سر در داچھی ہے انسان اچھی طرح کھاپی تو سکتا ہے اُس نے پیٹ درد پھینک کر سر درد لے لی۔مگر بیماریاں تبدیل کرنے کے بعد وہاں ایک گہرام مچ گیا اور ہر ایک نے یہی شور مچانا شروع کر دیا کہ میری پہلی تکلیف ہی مجھے دے دی جائے۔حقیقت یہ ہے کہ جس تکلیف میں انسان مبتلاء ہو چونکہ اس کا وہ عادی ہو جاتا ہے اور اس کے کئی علاج بھی اسے معلوم ہو جاتے ہیں اس لئے وہ اس قدر پریشان کن نہیں ہوتی لیکن نئی بیماریوں سے وہ گھبرا جاتا ہے۔خطر ناک سے خطر ناک بیماریوں کے علاج دنیا میں موجود ہیں لیکن جب انفلوئنزا پھوٹا تو تمام معالج گھبرا گئے کیونکہ وہ ایک نئی بیماری تھی جس کے علاج سے وہ واقف نہ ہوئے تھے۔اسی طرح ہم مان لیتے ہیں کہ انگریزوں کا وجود بھی ہندوستان کے لئے ایک بلا ہے لیکن یہ بلا پرانی ہو چکی ہے ہم اس سے واقف ہو چکے ہیں اور یہ ہم سے واقف ہے مگر جو بلا نئی آئے گی وہ بوجہ نا واقفیت اس سے بہت زیادہ تکلیف دہ ہوگی۔انگریز ایک تجربہ شدہ بلا ہیں اور ہمیں اس کی برداشت کی عادت ہو چکی ہے پھر انگریز چونکہ غیر ملک کے رہنے والے ہیں وہ صلح کے لئے بھی جلد آمادہ ہو سکتے ہیں لیکن ہندوؤں میں یہ بات بھی نہیں۔ابھی دیکھ لو انگریز تو صلح پر آمادگی کا اظہار کر رہے ہیں لیکن باوجود یکہ ہندوستان کو اس وقت تک ملا کچھ بھی نہیں ہندومہاسبھا یہی کہتی ہے کہ مسلمانوں سے ہمیں صلح کی کوئی ضرورت نہیں وہ اگر نہیں مانتے تو نہ مانیں حالانکہ مہاسبھا محکوم ہے اور انگریز حاکم۔تو باہر سے آئی ہوئی قوم عقل کی بات تسلیم کر لیتی اور دباؤ زیادہ ) مان لیتی ہے مگر اپنے ہی ملک کی اکثریت اس کی پر اوہ نہیں کیا کرتی اور وہ زور سے حکومت کرتی ہے اس لئے ہند و خطرہ انگریزی خطرہ سے بہت بڑھ کر ہے اور ہر شخص جو محض الفاظ کا غلام نہ ہو اور حریت کے لفظ کے فریب میں آیا ہوا نہ ہو وہ تسلیم کرے گا کہ ہندوستان میں انگریزوں کا رہنا ہندوؤں کی حکومت سے بہتر اور مسلمانوں کے لئے فائدہ مند ہے۔انگریز تو زیادہ سے زیادہ یہ کرتے ہیں کہ چند ایک بڑی بڑی نوکریاں ہندوستانیوں کو نہیں دیتے لیکن باقی ملازمتیں وہ دینے پر مجبور ہیں۔کیونکہ چپڑاسی کلرک، پٹواری، نائب تحصیلدار، تحصیلدار تھانیدار پولیس کانسٹیبل وغیرہ وہ انگلستان سے نہیں لا سکتے۔مگر ہندو مسلمانوں کو یہ بھی نہ دیں گے بلک ان کی کوشش تو یہ ہو گی کہ بھک منگا اور فقیر بھی کوئی مسلمان نہ ہو۔ہندو ریاستوں میں جا کر دیکھ لو یہ فرق بآسانی معلوم ہوسکتا ہے۔انگریزوں کے گھر میں جا کر ہم تبلیغ کر سکتے ہیں لیکن ہندو ریاستوں میں اس