خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 441

خطبات محمود اسلام مم سال ۱۹۳۰ء تاکید ہونی چاہئے تو ہیڈ ماسٹر کہے گا تم خود پانچ کی جگہ پچاس نمازیں پڑھو تمہیں کوئی منع نہیں کرے گا اور سارا دن قرآن پڑھتے رہو کوئی نہیں روکے گا لیکن یہ بچہ ابھی نا واقف ہے اس کا دماغ ایسا نہیں جو فیصلہ کر سکے کہ عیسائیت اختیار کرے یا اسلام یا کسی اور مذہب کو یاد ہر یہ ہی رہے ہم اسے آزاد تعلیم دیتے ہیں پھر بڑا ہو کر جو مذہب اسے پسند ہوگا اختیار کر لے گا۔مگر حقیقت یہ ہے کہ جسے کوئی مذہبی تعلیم نہ دی جائے گی وہ دہر یہ ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ کے متعلق علم باہر سے آتا ہے اور ایسے لڑکے جب بڑے ہوتے ہیں تو وہ پورے دہر یہ نکلتے ہیں۔پس جتنی زیادہ کوئی قوم حریت کی تعلیم دینے والی ہوگی اتنی ہی زیادہ اس میں قواعد کی پابندی ہوگی۔در جب تک انسان دنیا میں ہے اسے قانون کی پابندی کرنی ہی پڑے گی کیونکہ اس کے بغیر انسانیت قائم ہی نہیں رہ سکتی اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی خوبی کا انکار نہیں ہو سکتا۔پس وہ او تحریک جو قانون کی جڑھ پر تبر رکھتی ہے وہ کبھی مفید نہیں ہو سکتی۔دنیا میں خواہ کوئی تحریک بھی ہو یہ بات سب میں مشترک ہے کہ انسان کے لئے قانون کی پابندی اشد ضروری ہے۔چور اور ڈاکو بھی قانون کی پابندی سے آزاد نہیں۔حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے میں نے ایک چور سے پوچھا چوری کرنے کے لئے کتنے آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اس نے کہا اچھی کامیاب چوری کے لئے کم از کم پانچ آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔میں نے کہا پانچ آدمیوں میں سے اگر کوئی مال کھا جائے تو کیا ہوگا۔اس نے کہا کہ ایسے بددیانت کو ہم سخت سزا دیں گے۔تو چور اور ڈا کو بھی ایک قانون کے پابند ہوتے ہیں یعنی قانون شکنوں میں بھی قانون کی پابندی ضروری سمجھی جاتی ہے۔انارکسٹ جو بظا ہر خطر ناک قانون شکن ہوتے ہیں ان میں بھی اتنی پابندی ہوتی ہے کہ اگر وہ کسی ممبر کے ذمہ لگائیں کہ کسی شخص کو مار دے تو اس پر دو تین نگران مقرر کرتے ہیں کہ اگر وہ اس سے قاصر رہے تو اسے قتل کر دیں۔غرض قانون کی پابندی ایک ایسی چیز ہے جو انسان سے کسی صورت میں بھی جدانہیں ہو سکتی اس کے بغیر مذہب ، سیاست، تمدن غرضیکہ کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔جو قانون شکنی کرتے ہیں ان کے لئے بھی بعض حد بندیاں ہوتی ہیں مگر کانگریسں تو بغیر کسی حد بندی کے قانون شکنی کی تعلیم دیتی ہے اس لئے کوئی قوم بھی جو تعصب سے اندھی نہ ہو جائے وہ اس تحریک کی حمایت نہیں کر سکتی۔اس تحریک کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں مذہب کے خلاف جوش بڑھ رہا ہے پنڈت جواہر لال نہرو نے تو اعلان کیا ہے کہ میرا سب سے اولین مقصد یہی ہے کہ