خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 434

خطبات محمود مممم سال ۱۹۳۰ء جانے کا اسے بہت صدمہ ہوا اور اس نے بہت رو رو کر اس کے دوبارہ مل جانے کے لئے دعا ئیں کرنا شروع کیں لیکن سانپ نہ ملامتی کہ اس کے دل میں شبہ پیدا ہوا کہ یہ دعا قبول نہیں ہو سکتی۔اِس پر اُس نے کہا خدایا ! میں نے اتنی دعائیں کی ہیں پھر میرا سانپ کیوں نہیں ملتا اُسی وقت آدمی اس کے پاس بھاگا ہوا آیا کہ فلاں آدمی کو سانپ نے کاٹ کھایا ہے اور وہ مر گیا ہے۔ان لوگوں کے ہاں قاعدہ ہے کہ جب کوئی سانپ کسی کو کائے تو سب کو دکھا دیتے ہیں کہ سب اس سے ہوشیار ر ہیں نیز اُس وقت تک اگر اُس کا تریاق معلوم نہ ہو تو اُسے معلوم کرنے کی کوشش کریں۔یہ شخص اس کے مکان پر گیا گھر والوں نے سانپ کو پکڑ کر بند کر رکھا تھا۔جب اُس نے جا کر کھولا تو وہ ان وہی سانپ تھا جس کے لئے وہ اس قدر دعائیں کرتا رہا اور معلوم ہوا کہ وہ اس قسم کا سانپ ہے جس کے زہر کا تریاق اُس وقت تک انہیں معلوم نہ تھا۔اُس وقت اسے اپنی دعاؤں کے قبول نہ ہونے کا باعث معلوم ہوا اور اُس پر یہ بات کھلی۔دوسری مثال یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ پیر عبد القادر جیلانی نے خواب میں دیکھا ان کا ایک مرید کسی کافرہ عورت کے پیچھے مرتد ہو گیا ہے۔چونکہ وہ مرید ان کا محب خاص تھا اس لئے اس کے لئے آپ نے بہت دعائیں کیں مگر ہر دفعہ یہی الہام ہوا کہ یہ تقدیر مبرم ہے ٹل نہیں سکتی مگر آپ پھر بھی یہی دعا کرتے رہے کہ خدایا! تو اگر چاہے تو اسے بھی ٹال سکتا ہے۔آخر جب ان کی دعا انتہاء کو پہنچ گئی تو انہیں الہام ہوا ہم نے تیری دعا بھی قبول کر لی اور تقدیر کو بھی پورا کر دیا۔صبح انہوں نے اس مرید کو بلایا اور اس سے کہا میں نے آج تک تو تمہیں بتایا نہیں لیکن اب بتا تا ہوں کہ اس طرح خواب دیکھا تھا اور دعائیں کرتا رہا یہ جواب ملتا رہا لیکن آج یہ الہام ہوا ہے تم بھی بتاؤ کہ آخر کیا ماجرا ہے اس نے کہا بات یہ ہے میں ایک یہودن پر عاشق تھا وہ کہتی تھی کہ تو اگر یہودی ہو جائے تو تیری خواہش پوری ہو سکتی ہے اور عشق کے جذبہ کی وجہ سے میرے دل میں بھی یہ خیال آتا تھا کہ یہودی ہو جاؤں اور قریب تھا کہ اسلام کو خیر باد کہہ کر یہودی ہو جاؤں کہ آج رات وہ خواب میں مجھ سے ملی اور مجھے اُس سے یکدم نفرت ہوگئی۔گویا اس طرح اللہ تعالیٰ نے دونوں باتیں پوری کر دیں رویا کو بھی اور دعاؤں کو بھی۔اسی طرح یہاں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے وہ رویا بھی پورے کر دیئے جو دوستوں نے میری موت کے متعلق دیکھے تھے اور پھر ان کی دعاؤں کو بھی قبول کر لیا۔ایک اور سبق بھی ہم اس سے