خطبات محمود (جلد 12) — Page 412
خطبات محمود ۴۱۲ سال ۱۹۳۰ء سے انہیں اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہئے تا وہ ایسی غلطیوں کے مرتکب نہ ہوں جو بعد میں زیادہ پشیمانی کا باعث ہوں۔اسلامی تاریخ میں اس کی مشہور مثال غزوہ حدیبیہ ہے جب رسول کریم عمرہ کے لئے گئے تو مکہ والوں نے آپ کو حدیبیہ کے مقام پر روک دیا۔اُس وقت مسلمانوں کے جذبات حد درجہ مشتعل تھے حتی کہ حضرت عمر جیسا انسان بھی قابو سے باہر ہو گیا۔آپ حضرت ابو بکر کے پاس گئے اور کہا کیا ہم بچے نہیں ؟ کیا ہم جانیں دینے سے ڈرتے ہیں؟ پھر کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تو ہو کہ ہم عمرہ کریں گے لیکن ہم یہاں صلح کر لیں۔باقی صحابہ کا بھی جوش کے مارے ایسا بُرا حال تھا کہ رسول کریم ﷺ کی بیویوں میں سے ایک سے کی روایت ہے کہ آپ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا میں نے لوگوں سے کہا ہے احرام کھول دو لیکن لوگ سستی اور بددلی سے ادھر اُدھر پھر رہے ہیں تمہارا اس وقت کیا مشورہ ہے۔انہوں نے آپ کو مشورہ دیا کہ آپ کسی سے کلام نہ کریں اور احرام کھول کر اپنی قربانی کے جانوروں کو ذبح کر دیں چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور جب صحابہ نے دیکھا کہ جو حکم آپ نے ہمیں دیا اور جس کے کرنے میں ہم نے تساہل سے کام لیا آپ نے خود کرنا شروع کر دیا ہے تو وہ بھی بے تحاشا دوڑے اور ان فرائض کو ادا کیا جن کی ادائیگی کی طرف ان کی جو خیلی طبائع پہلے راغب نہیں ہوتی تھیں ہے تو قومی اور وطنی جذبات بعض وقت نازک صورت اختیار کر لیتے ہیں اور انسان سمجھتا ہے جو ہو گا دیکھا جائے گا۔حالانکہ یہ قول اُسی وقت خطرہ سے خالی ہو سکتا ہے جب انسان گلیۂ خدا تعالیٰ کی راہنمائی میں ہو اور خدا تعالیٰ کے احکام کے ماتحت چل رہا ہو وگرنہ اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ خدا تعالیٰ کے احکام کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔پس ہماری جماعت کو یا د رکھنا چاہئے بلکہ دوسروں کو بھی سمجھانا چاہئے کہ دنیا میں حکومت بعض ذرائع سے ہی قائم ہوتی ہے۔حکومت کو ماننا انسانی فطرت میں ایسے طور پر داخل نہیں کہ ہر وقت اسے منوالیا جائے بعض اوقات بچے بھی حکومت ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔پس یہ بات بالکل غلط ہے کہ بیرونی حکومت کے احکام کو نہیں مانا جا سکتا اور اپنی حکومت سے انکار نہیں کیا جا سکتا بسا اوقات طبائع اپنی حکومت کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کر دیتی ہیں۔آئر لینڈ کو جب انگریزوں نے حقوق دینے چاہے تو وہاں بسنے والے انگریزوں نے کہہ دیا ہم یہ بات ہر گز نہیں مان سکتے۔تو بعض دفعہ ملکی بلکہ بعض دفعہ تو مذہبی حکومت سے بھی سرکشی کر لی جاتی ہے حالانکہ سب سے زیادہ