خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 386

خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء رائے بھی سنی جائے مگر اس کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔انگلستان میں اگر کوئی فساد ہو تو اس کے انسداد کے لئے حکومت لوگوں سے مشورے کرتی اور ان کی کمیٹیاں بناتی ہے اور پھر طریق عمل تجویز کرتی ہے حالانکہ ملک ان کا اپنا ہوتا ہے، حکومت ان کی اپنی ہوتی ہے مگر یہاں باہر کے آئے ہوئے غیروں پر حکومت کرنے والے اتنے فسادات کی موجودگی میں ملک سے پوچھتے تک نہیں کہ کیا کیا جائے۔اس سے لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ جب ہم سے پوچھا ہی نہیں جاتا تو ہم ان باتوں میں کیوں دخل دیں۔اگر ان حالات میں گورنمنٹ کو کوئی مشورہ دے اور حکومت اس سے منہ موڑ لے تو اسے کیا ضرورت ہے کہ کچھ کہے۔اس وجہ سے وہ طبقہ جو کانگریس کے موجودہ طریق عمل کو نا جائز سمجھتا ہے وہ بھی دخل نہیں دیتا اور سمجھتا ہے کہ جب گورنمنٹ کو ہماری پرواہ نہیں تو ہمیں مشورہ دینے کی بھی ضرورت نہیں۔انگلستان، فرانس، جرمنی، اٹلی وغیرہ ممالک میں کبھی اس قدر فساد نہیں ہو سکتے کیونکہ جب کوئی شورش اُٹھتی ہے تو سب پارٹیوں کو جمع کر کے ان سے شورش کے دبانے کا کام لیا جاتا ہے۔جنگ کے دنوں میں ہی باوجود ملکی اور نمائند ہ حکومت ہونے کے پھر بھی اقلیتوں کو کام کرنے کے لئے بلایا گیا اور ان کے مشورہ سے کام کیا جا تا تھا انہیں کام میں حصہ دیا جا تا تھا بعض وزراء محض اس لئے مستعفی ہو گئے کہ اقلیتوں کو وزارت میں حصہ مل سکے۔جب اپنی اور نمائندہ حکومت میں یہ حالت ہوتی ہے تو ایک بیرونی حکومت جو چھ ہزار میل دور سے آ کر ایک غیر ملک پر حکومت کر رہی ہے اس سے جب جھگڑا پیدا ہوتا ہے تو اس کیلئے زیادہ ضروری ہے کہ ملک کے لوگوں کو بلائے اور ان کے سامنے یہ سوال رکھے کہ ایک طرف تو قانون شکنی کو روکنا ضروری ہے اور دوسری طرف لوگوں کے احساسات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے اب تم بتاؤ کہ کیا طریق اختیار کیا جائے جس سے دونوں مقصد حاصل ہو جائیں۔اس طرح ملک کا ایک بڑا حصہ بدامنی کو دور کرنے کیلئے گورنمنٹ کے ساتھ ہو جاتا اور وہ لوگ سمجھتے کہ وہ اپنا کام کر رہے ہیں۔پس گورنمنٹ کا رویہ بھی قابلِ اعتراض ہے کہ وہ لوگ جو اس سے تعاون کرنے کی وجہ سے طرح طرح کی تکلیفیں اٹھاتے لوگوں کی ہنسی تمسخر کا نشانہ بنتے کئی قسم کے نام رکھاتے ہیں انہیں ایسا نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ گویا وہ موجود ہی نہیں۔پھر یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ جو سزائیں نمک کے قانون کو توڑنے پر دی جارہی ہیں وہ سخت ہیں معمولی دو دو تین تین دن قید کر دینا کافی ہوتا اول تو جرمانہ کرنا ہی کافی ہوتا۔بلکہ میں تو شروع