خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 387

خطبات محمود ۳۸۷ میں اس رائے کا تھا کہ ایسے لوگ جو نمک بنا ئیں وہ ان سے چھین لیں۔بلکہ اگر گورنمنٹ صحیح طور پر مذاق سے کام لیتی اور مذاق بھی بعض اوقات بڑا کام کر جاتا ہے تو بہت پہلے اس تحریک کا خاتمہ ہو جاتا۔گورنمنٹ اعلان کر دیتی کہ چونکہ گاندھی جی اور ان کے ساتھی نمک بنانے لگ گئے ہیں اس لئے نمک بنانے والے کچھ ملازم موقوف کر دئیے جائیں گے اور اس طرح نمک بنانے والے محکموں میں تخفیف کر دی جائے گی۔پھر نمک بنانے والوں کا بنایا ہو انمک لیکر نیلام کرتے جاتے اس طرح گاندھی جی کا نمک کانگریس نہ نیلام کرتی بلکہ خود گورنمنٹ کرتی اور جو لوگ نمک نہ دیتے ان کے گرد بہرہ مقرر کر دیا جاتا۔نہ انہیں کھانے پینے کے لئے نکلنے دیا جاتا نہ پیشاب پاخانہ کیلئے۔اس طرح وہ بہت جلد نمک حوالے کر دیتے۔پس اگر اس تحریک کو جو واقعی ہنسی کے قابل تھی ہنسی مذاق میں اُڑا دیا جاتا تو تھوڑے عرصہ میں یہ خود بخودختم ہو جاتی۔اور جب اس طرح ہوتا تو ملک سے گاندھی جی کا اثر مٹ جاتا اور لوگ سمجھ جاتے کہ یہ محض مضحکہ تھا۔اب جب گورنمنٹ نمک بنانے والوں کو قید کر رہی ہے تو قید ہونے کو بڑی قربانی قرار دیا جا رہا ہے اور اس سے تو دوسرے لوگوں میں بھی جوش پیدا ہو رہا ہے لیکن اگر اس طرح کیا جا تا کہ جتنا نمک بنایا جاتا وہ پولیس چھین لیتی اور نمک بنانے والے خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ جاتے تو چند دنوں میں ہی سارا جوش ٹھنڈا ہو جاتا۔اس میں شبہ نہیں کہ صرف سرکاری افسروں سے یہ کام نہیں ہو سکتا تھا۔اور اگر گورنمنٹ مشورہ کرتی تو ملک کا ایک بڑا حصہ نمک چھینے میں اس کا مددگار بن جاتا۔لوگوں میں تقریریں کر کے سمجھانے کیلئے تیار ہو جاتا اور اس طرح تحریک بہت جلد مٹ جاتی مگر اس طرف توجہ نہ کی گئی۔حال ہی میں پشاور کے حادثہ کے موقع پر پولیس اور فوجوں کے متعلق کہا گیا ہے کہ انہوں نے عوام پر تشدد میں لیت و لعل سے کام لیا اور خود گورنمنٹ نے شائع کیا ہے کہ لوگوں میں بے اطمینانی پائی گئی۔اس کی وجہ یہی ہے کہ نمک بنانے اور شہر میں پھرنے کی وجہ سے تشدد کرنا انہوں نے جائز نہ سمجھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض اوقات حکومت کا رُعب قائم کرنے کیلئے عدم تشدد کے جواب میں بھی تشدد کرنا ضروری ہوتا ہے مگر اسے عام لوگ نہیں سمجھ سکتے حالانکہ گورنمنٹ چلتی ہی رُعب سے ہے اور گاندھی جی اور اس کے چیلے یہی کوشش کر رہے ہیں کہ گورنمنٹ کا رُعب مٹا دیا جائے۔تو رُعب کا قائم کرنا حکومت کیلئے ضروری ہوتا ہے مگر یہ عام