خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 385

خطبات محمود ۳۸۵ سال ۱۹۳۰ء ڈاکٹر اور ایک اعلیٰ افسر بھیجنے پڑے۔جب وہ آئے تو درباریوں نے پہلے سے ہی سازش کر لی اور اس وقت جبکہ وہ دربار میں آنے والے تھے راجہ کو چوری کرنے والے ایک نوکر نے جھک کر اس کے کان میں اسے ماں بہن کی گالیاں دیں۔اس کی اس حرکت پر راجہ کو سخت طیش آیا اور آنا بھی چاہئے تھا اور وہ اسے مارنے لگ گیا۔عین اُس وقت جب وہ بے تحاشا مار رہا تھا ڈاکٹر اور کمشنر دربار میں داخل ہوئے اور راجہ کی مخالف پارٹی نے یک زبان ہو کر کہا حضور ! ہم سے روز ایسا ہی ہوتا ہے۔اس پر راجہ کے خلاف رپورٹ کر دی گئی کہ وہ پاگل ہے۔اب اگر کہا جائے کہ راجہ کے ساتھ چوری کرنے والے نے جو کچھ کیا وہ عدم تشدد تھا تو یہ غلط ہو گا۔گالی دینا عدم تشدد نہ تھا بلکہ تشدد تھا۔ایسے حالات پیدا کر دینا کہ دوسرا تشدد کے لئے مجبور ہو جائے عدم تشدد نہیں کہلا سکتا اور اسے عدم تشدد کہنا غلطی ہے۔آج کل کہا جا رہا ہے کہ گورنمنٹ تشدو کر رہی ہے لیکن بیشتر اور پیشتر طور پر کانگریس کی طرف سے تشدق ہو رہا ہے۔جہاں حکومت کے قانون کو اس لئے تو ڑا جائے کہ اس کے کام میں روکیں ڈالی جائیں یہ تشدد ہے۔ہاں یہ تشدد نہ ہوتا اگر گورنمنٹ کی ملازمتیں نہ کی جاتیں، اس کے کاموں میں مدد نہ دی جاتی، اس سے تعاون نہ کیا جا تا مگر یہ کہ لوگوں کو ایک جائز کام سے روکنے کے لئے راستوں پر پہرے لگا دینا یا قانون نمک کو تو ڑ نا یا سر کا ری نمک کے گوداموں پر حملہ کرنا یہ پری کہاں کا عدم تشدد ہے۔اگر کوئی شخص گاندھی جی کے آشرم میں گھس کر ان کا اسباب اُٹھا لے تو کیا یہ عدم تشدد ہو گا ؟ آشرم والے تو ڈنڈے سوئے لے کر مارنے لگ جائیں گے اسی طرح جو چال کانگریس والے چل رہے ہیں۔کیا اسی کے مطابق کوئی ان کے جلسہ میں جا کر میز کرسی اٹھا لے تو وہ اس کا نام عدم تشدد رکھیں گے۔یہ تو الگ رہا اسی سال ایک احمدی غلطی سے کانگریس کے پنڈال میں داخل ہو گیا تھا تو اس سے اس کے روپے چھین کر نکال دیا گیا تھا۔پس یہ انصاف نہیں کہ جو طریق اپنے لئے پسند نہ کیا جائے وہ دوسرے کے متعلق استعمال کیا جائے اور انسان کو دشمنی اور عداوت میں بھی انصاف کو ترک نہیں کرنا چاہنے مگر کانگریس کا موجودہ رویہ اس کے خلاف ہے۔اس کے مقابلہ میں ہم یہ نہیں کہتے کہ گورنمنٹ غلطی سے بری ہے اس کا رویہ بھی اتنا اچھا نہیں جتنا ہونا چاہئے تھا۔اسے سمجھنا چاہئے تھا کہ وہ باہر سے آئے ہوئے لوگ ہیں یہاں کے نہیں اس لئے ملک میں یہ خیال پیدا ہونا لازمی ہے کہ ملکی معاملات کے حل کرنے میں ہماری