خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 384

خطبات محمود ۳۸۴ اختلاف کیا جاتا ہے غرض کہ کوئی بات ایسی نہیں حتی کہ انسان کا اپنا جسم بھی ایسا نہیں جس کے متعلق سب کے سب ایک بات پر متفق ہوں۔اور جب انسان اپنے جسم کے متعلق بھی شبہات رکھتے ہیں تو اور کیا چیز ہو گی جس پر سب کے سب متفق ہوں گے۔پس خواہ کوئی حکومت ہو اس سے اختلاف رکھنے والے موجود ہوں گے اور اگر اختلاف کی وجہ سے قانون شکنی درست ہو سکتی ہے تو پھر امن کہاں رہ سکتا ہے۔آج اگر کانگریس والے حکومت کے خلاف قانون شکنی جائز قرار دیتے اور اس کا ارتکاب کرتے ہیں تو انہیں اس بات کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے کہ کل جب ان کی حکومت قائم ہوگی تو اس کے قوانین بھی توڑے جائیں گے اور کانگریسیوں نے جوطریق اختیار کر رکھا ہے یہ اگر کامیاب ہو جائے گا تو ہمیشہ کے لئے امن بر باد ہو جائے گا۔پس کانگریس کا موجودہ رویہ عقل کے بالکل خلاف ہے۔پھر ان کا یہ دعویٰ ہے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں نرمی اور محبت سے کر رہے ہیں سختی اور تشدد کا اس میں کوئی دخل نہیں مگر یہ بھی غلط ہے۔جس چیز کا نام گاندھی جی عدم تشد د رکھتے ہیں دراصل وہ تشدد ہے اور خطر ناک تشدد۔مثلاً یہی کہ وہ غیر ملکی کپڑے کی دکانوں پر پہرہ لگا رہے ہیں تا کہ خریدنے والوں کو اس کپڑے کے خریدنے سے روکیں ان کے آگے بیٹھ جائیں اگر اس طرح بھی باز نہ آئیں تو لیٹ جائیں اس سے زیادہ تشدد اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہ اس طرح دوسروں کو تشدد کے لئے مجبور کرتے ہیں۔یہی عدم تشد و اگر گھروں میں شروع ہو جائے تو اندازہ لگاؤ کیا حالت ہو۔بچہ کو مدرسہ جانے کے لئے کہا جائے مگر وہ کھانا کھانا چھوڑ دے یا بیوی سے خاوند کوئی کام کہے اور وہ گھر کا کام کرنا چھوڑ دے اس پر خواہ مخواہ تشدد کرنا پڑے گا۔دراصل اس قسم کی حرکات کو عدم تشدد کہنا دھوکا ہے اور وہ یا تو خود بیوقوف ہے جو اس کا نام تشدد نہیں رکھتا یا پھر دوسروں کو بیوقوف سمجھتا ہے۔یہ بہت خطرناک فریب ہے جو لوگوں کو دیا جا رہا ہے حقیقت میں جو تشدد ہے اس کا نام عدم تشدد رکھا جاتا ہے۔یہ ایسا ہی عدم تشدد ہے جیسے کوئی کسی کے چُھپ چھپ کر مچٹکیاں لے اور وہ جب اس کا مقابلہ کرے تو چٹکیاں لینے والا شور مچا ر دے کہ میرے عدم تشدد کے مقابلہ میں تشدد اختیار کیا جاتا ہے یا ایسا ہی عدمِ تشدد ہے جیسا کہ ایک راجہ کے متعلق مشہور ہے کہ اس کے درباری اسے ریاست سے علیحدہ کرانا چاہتے تھے۔اس کے لئے انہوں نے بار بارحکومت سے رپورٹیں کیں کہ راجہ پاگل ہو گیا ہے اور اس کثرت سے رپورٹیں بھیجیں کہ آخر حکومت کو راجہ کے دیکھنے کے لئے