خطبات محمود (جلد 12) — Page 383
خطبات محمود ۳۸۳ سال ۱۹۳۰ء حکومتوں کو جائز قرار دیا جاتا ہے اور بروئے قانون قائم شدہ سمجھا جاتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ انگریزوں کی حکومت کو نا جائز قرار دیا جائے۔مگر جس طرح یہ صحیح ہے کہ جب کوئی قوم کسی ملک پر قابض ہو جائے تو اس کی حکومت جائز اور درست سمجھی جاتی ہے اور اس کے خلاف فساد اور بغاوت کرنا نا جائز ہے اسی طرح یہ بھی صحیح ہے کہ انسانی فطرت ایسی ہے جو لمبے عرصے تک دوسرے کی حکومت برداشت نہیں کر سکتی۔اس کے اس فعل کو اچھا کہا جائے یا بُرا اسے عقلمندی سمجھا جائے یا جنون وہ تیار ہو جاتی ہے کہ یا تو آزادی حاصل کرے یا پھر مر جائے۔ان دونوں پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی درمیانہ راستہ نکالنا بہت مشکل امر ہے کیونکہ اگر ایک طرف دنیا کا دستور عقل اور شریعت بتاتی ہے کہ قائم شدہ حکومت کے خلاف منصو بے کرنا‘ اس سے لڑنا اور بغاوت کرنا نا جائز ہے تو دوسری طرف حُب الوطنی کے جذبات، ملک کی علمی اور اقتصادی ضروریات انسانی غیرت اور حمیت کا احساس مجبور کر رہا ہے کہ ملک کو آزاد کرایا جائے۔اور جو اس مقصد کو سامنے رکھ کر کام کر رہے ہیں ان کی قدر کی جائے انہیں بُرا نہ کہا جائے۔ان دونوں باتوں کے درمیان راستہ تلاش کرنا ایسا ہی ہے جیسے پل صراط تیار کرنا۔اگر چہ یہ بہت مشکل کام ہے لیکن صحیح راستہ یہی ہے اور یہی خدا کے منشاء کے ماتحت ہے لیکن افسوس ہے کہ اس وقت یہ صحیح راستہ اختیار نہیں کیا جا رہا۔ایک طرف کانگریس کے لوگ ایک صحیح مقصد کے لئے ایسی کارروائیوں پر اتر آئے ہیں جو نہ آج مفید ہو سکتی ہیں نہ گل۔آزادی اچھی چیز ہے مگر وہ آزادی حاصل کرنے کا طریق جو ہمیشہ کے لئے غلام بنا دے بھی اچھا نہیں ہو سکتا۔کانگریس والے آزادی حاصل کرنے کے لئے ایسا ہی طریق اختیار کئے ہوئے ہیں جو ہندوستان کو ہمیشہ کے لئے غلام بنا دے گا اور وہ طریق قانون شکنی ہے۔کانگریس نے یہ اصول قرار دے لیا ہے کہ جو بات وہ کہے گورنمنٹ کا فرض ہے کہ اسے مان لے لیکن اگر نہ مانے تو اس کے قوانین توڑے جائیں۔یہی طریق اگر کل بھی اختیار کیا جائے گا تو کیا نتیجہ نکلے۔فرض کر لو انگریز ہندوستان سے چلے جاتے ہیں اور ہندوستان میں ہندوستانی حاکم ہو جاتے ہیں اس وقت اسی طریق پر عمل کیا جائے یعنی جس بات کا مطالبہ کوئی قوم کرے وہ حکومت منظور کرلے ورنہ اس کے قوانین تو ڑ دیئے جائیں تو پھر کیا ہو گا۔دنیا میں کوئی بات ایسی نہیں ہو سکتی جس پر سارے کے سارے لوگ متفق ہو جائیں حتی کہ نہ اتعالیٰ کی ہستی کے متعلق بھی تمام لوگ متفق نظر نہیں آتے۔نبیوں کے متعلق بھی