خطبات محمود (جلد 12) — Page 371
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء نہیں ہوتی۔ان کی سستی کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کے لئے چند ایک ابتلاء پیدا کئے ہیں تا کہ اگر جماعت کے دوست دوسروں کی ہدایت کیلئے احمدیت کو نہیں پھیلاتے تو یہ سمجھ کر کہ ساری دنیا ہماری دشمن ہے اور جب تک ہم ساری دنیا کو احمدیت میں داخل نہ کر لیں ہمارا کوئی ٹھ کا نانہیں اور کبھی چین سے زندگی بسر نہیں کر سکتے تبلیغ کی طرف متوجہ ہوں۔دوسرے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ ہم سے انہیں فائدہ پہنچ رہا ہے تو وہ شاباش اور آفرین کہنے لگے جاتے ہیں اور ہمارے بعض سیدھے سادھے بھائی اس وہم میں مبتلاء ہو جاتے ہیں کہ اب تو ساری دنیا ہم سے خوش ہے۔حالانکہ ان کی شاباش کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے چیتے سے شکار لینے کیلئے شکاری اسے تھپکی دیتا ہے یا باز کو کسی جانور پر چھوڑنے سے پہلے اسے تھپکی دیتے اور چکارتے ہیں اور اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ شکاری چیتے یا باز کو دل سے بھی اسی طرح پیار کرتا ہے جس کا وہ اظہار کر رہا ہے بلکہ یہ صرف اس سے اپنا مطلب نکالنے کیلئے کیا جاتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے بھی شکاری اس سے غافل نہیں ہو جاتا وہ اس امر کا برا بر خیال رکھتا ہے کہ وہ بھاگ نہ جائے یا مجھ پر ہی حملہ نہ کر دے۔یہی حال دوسری اقوام کا ہے جب کسی مشکل کے وقت انہیں منظم جماعت کی خدمات کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ ہمیں تھپکی دیتے ہیں اور شاباش کہتے ہیں اور اس سے بعض احمدی خیال کر لیتے ہیں کہ وہ ہمارے دوست ہیں حالانکہ جب تک ایک انسان احمدیت کا جامہ زیب تن نہیں کر لیتا وہ خواہ ہم سے کتنا بھی ہمدردی کا دعویٰ کرنے والا کیوں نہ ہو وہ آج نہیں تو کل ضرور ہم سے دشمنی کرے گا۔پس ان ابتلاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ اگر اس کے لئے اسلام کے لئے احمدیت کی محبت کیلئے ہم احمدیت کو نہیں پھیلاتے تو یہی سمجھ کر اسے پھیلانے میں لگ جائیں کہ ہمارا اور ہماری اولاد کا امن و امان اور آسائش احمدیت کی اشاعت سے وابستہ ہے۔ہندوستان میں انقلاب پیدا ہونے والا ہے اور ہندوستانیوں میں اس وقت جو جذ بہ تربیت پیدا ہو رہا ہے گورنمنٹ زیادہ دیر تک اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔بے شک وہ مقابلہ تو کرے گی لیکن آہستہ آہستہ وہ خود بخود ہندوستانیوں کو حقوق دینے پر آمادہ ہو جائے گی اور وہ نادان احمدی جو ایک حد تک تحریک خریت کو ہندوستان کیلئے مفید سمجھتے ہیں، اُس وقت دیکھیں گے کہ وہ لوگ جن کی ظاہر داری کو دیکھ کر وہ انہیں اپنا ہمدرد سمجھتے ہیں ان کی مثال بعینہ اس بلی کی طرح ہے جس کا جسم نہایت ملائم اور پشم بہت نرم لیکن ناخن خوفناک ہوتے ہیں اور وہ دیکھیں گے کہ کس طرح ان کی