خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 359

خطبات محمود ۳۵۹ سال ۱۹۳۰ء جس کی عقل ماری جائے اور جو تہذیب اور شائستگی سے عاری ہو جائے وہ جو چاہے کرے۔اور اس کی مثال یہی ہوگی کہ ”بے حیا باش ہر چہ خواہی کن۔اس قسم کے دعوے کرنے والے عام طور گاندھی جی کے مؤید ہیں۔لیکن وہی گاندھی جی جو NON-VIOLENCE (عدم تشدد ) کے زبر دست حامی اور عدم تشدد پر کامل اعتماد رکھنے کے مدعی ہیں، ہم تو عدم تشدد کو اس طرح نہیں مانتے بلکہ اسلام کی تو یہ تعلیم ہے اگر مخالف سے مقابلہ کی نوبت آ ہی جائے تو ایسا ڈٹ کر مقابلہ کرو کہ اس کے دانت کٹھے کر دو لیکن گاندھی جی کا یہی ایمان ہے کہ کسی صورت میں تشدد سے کام نہیں لینا چاہئے مگر انہوں نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ اگر کسی عورت کو ہاتھ لگایا گیا تو ” تمام ہندوستان میں آگ لگ جائے گی بشر طیکہ ہندوستانی نامرد نہ ہو گئے ہوں مجھے دشواش ہے کہ ہندوستان ایک دیوی کی بھی تو ہین برداشت نہیں کرے گا ، اگر ایک عدم تشدد کا حامی اور مؤید کسی ایک عورت کے جسم کو محض چھو دینے کی وجہ سے ملک سے اس قدر شدید انتقام کی امید رکھتا ہے تو وہ لوگ جو عورتوں کے ننگ و ناموس پر ناپاک اور گندے حملے کرنے والوں کو مظلوم قرار دیتے ہیں اگر یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ انہیں دھوکا دیا گیا ہے تو کیا یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ وہ دنیا کے بے حیا ترین لوگ ہیں۔لیکن میں نہیں سمجھتا کہ ان لوگوں کی فطرتیں ایسی گندی ہو سکتی ہیں وہ محض اس رو میں بہہ گئے ہیں وگر نہ انسانی فطرت کا میں نے جو مطالعہ کیا ہے اس کی بناء پر میں انسان سے بہت زیادہ شرافت کی امید رکھتا ہوں۔اس میں شک نہیں کہ دنیا کے اندر کامل وجود کا ملنا مشکل ہے لیکن ناقص لوگوں میں بھی اکثر ایسے ہوتے ہیں جن کی فطرت میں نیکی زیادہ اور بدی کم ہوتی ہے اور ایسے خبیث الطبع لوگ بہت ہی کم ملتے ہیں جن کے اندر شرافت کا مادہ بالکل موجود نہ ہو۔میں ان لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان کی انسانیت کا تقاضا یہ تھا ہندوستانیت کا نہیں اسلام کا نہیں بلکہ ان تمام مدارج سے علیحدہ ہو کر انسانیت کا تقاضا یہ ہونا چاہئے تھا کہ وہ اس کا بالکل الٹ کرتے جو وہ کر رہے ہیں۔بعض نادان کہتے ہیں کہ مباہلہ یا مقدمہ کیوں نہیں کرتے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ان کی بیویوں بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں کے متعلق یہی کچھ لکھا جائے تو کیا وہ ان سے مقدمات دائر کرائیں گے؟ میں اخبار ” انصاف۔ملاپ اور دیگر ان اخبارات کے جو مجھے مقدمہ کرنے کے لئے کہتے ہیں ایڈیٹروں اور مینجروں سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہی کچھ ان کے متعلق لکھا جائے تو کیا وہ عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کے لئے تیار ہیں؟ اگر تیار ہیں تو وہ صرف اس کا اعلان کر دیں اس کے بعد ہم