خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 358

خطبات محمود ۳۵۸ سال ۱۹۳۰ء تھا۔یہ لوگ وہاں بحث کرنے کیلئے گئے۔کئی ایک مسائل پر بحث قرار پا چکی تھی لیکن مستری عبد الکریم نے وفات مسیح و صداقت مسیح موعود پر مناظرہ کر کے باقی مسائل پر بحث کرنے سے انکار کر دیا۔اس پر سیالکوٹ کے مولویوں نے کہا باقی مسائل پر ہم بحث کرتے ہیں لیکن مولوی محمد یار صاحب نے کہا نہیں جو علماء قادیان سے آئے ہوئے ہیں انہیں پہلے پیش کرو۔مستری عبدالکریم مہر الدین آتشباز اور رحمت اللہ کمہار کو بھی مولوی بنا کر یہ اپنے ساتھ لے گیا ہوا تھا۔یہ لوگ بالکل عقل کے دشمن ہیں اور ہماری مخالفت میں سب کچھ کر گزرتے ہیں۔ایک شخص مسلمانوں میں سے آیا اور اس نے رسول کریم ﷺ کی کامل اطاعت کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کیا، اس نے ساری عمر اشاعت اسلام اور اس کے استحکام میں گزار دی اور اسلام کے مخالفین کے مقابلہ میں ہمیشہ سینہ سپر رہا لیکن ان لوگوں نے اس پر کفر کے فتوے لگائے اور کہا رسول کریم کے بعد نبی کہاں آ سکتا ہے لیکن ایک کافر جو رسول پاک سے ظاہر ا نسبت بھی نہیں رکھتا وہ نا جائز نمک سازی یا کسی اور قانون شکنی کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو یہ لوگ اس کو نبوت کا مقام دینے کے لئے تیار ہو جائے ہیں۔گویا مسلمانوں میں سے تو نبی نہیں آسکتا لیکن کفار میں سے آ سکتا ہے۔یہ ہے رسول کریم ﷺ کا فیضان ان لوگوں کے نزدیک کسی نے کہا تھا کہ خدا مجھے نادان دوستوں سے بچائے اور اسلام بھی اس وقت یہی کہہ رہا ہو گا کہ خدا مجھے ایسے دوستوں سے بچائے۔یہ لوگ محض جھوٹے اور مفتریا نہ واقعات کی بناء پر غلط پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ احمدی ظالم اور مستری مظلوم ہیں حالانکہ انہوں نے کوئی تحقیقات اس کے متعلق نہیں کی اور یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی کہ کیا یہاں ایسی کیفیت ممکن ہے۔اگر ہمارے ظلم و تشدد کے تمام واقعات بھی جو وہ ہماری طرف منسوب کرتے ہیں صحیح تسلیم کر لئے جائیں تو بھی دنیا کا کوئی شریف آدمی اس خباثت سے جس کا اظہار ان لوگوں نے کیا ہے ان کا موازنہ کر کے ہمیں ظالم نہیں کہہ سکتا۔اگر ہر مار جو وہ ہماری طرف منسوب کرتے ہیں اور اگر ہر آگ جو وہ ہمارے ذمہ لگاتے ہیں اور ہر گالی جو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں دی سچ ہو اور پھر کسی شریف آدمی کے سامنے یہ سارا معاملہ رکھ دیا جائے کہ انہوں نے یہ کیا اور ہماری طرف سے اس کے مقابلہ میں یہ ہوا۔اور یہ بھی کئی سالوں کے صبر اور انتظار کے بعد تو کوئی انسان کا بچہ انہیں مظلوم اور ہمیں ظالم قرار نہیں دے سکتا بلکہ وہ یہی کہنے پر مجبور ہوگا کہ ان لوگوں کے افعال ان کو دائرہ انسانیت سے خارج کرتے ہیں۔ہاں