خطبات محمود (جلد 12) — Page 346
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء میں صفائی نہیں اس لئے اپنا لباس تبدیل کیا اور ویسا ہی شائستہ بنایا جیسا یورپ کی دوسری اقوام کا تھا لیکن پھر بھی ہمیں غیر مہذب ہی سمجھا گیا۔پھر ہم نے خیال کیا شاید تہذیب تعلیم کا نام ہے اور ہم نے ملک کے اندر تعلیم جاری کی لیکن اس پر بھی یورپین لوگوں نے ناک بھوں چڑھا کر یہی کہا جاپانی غیر مہذب ہیں۔پھر ہم نے خیال کیا شاید صنعت و حرفت میں ترقی کرنے سے ہم مہذب کہلا سکیں اس لئے اس پہلو سے بھی ہم نے خوب ترقی کی لیکن اس پر بھی یورپین اقوام ہمیں غیر مہذب ہی کہتی رہیں۔پھر ہم نے سوچا شاید تجارت کی ترقی سے ہم مہذب بن سکیں گے۔اس لئے تجارت کی طرف توجہ کی اور اس پہلو میں بھی وہ ترقی کی کہ یورپین اقوام کو ان کی منڈیوں میں جا کر شکست دی لیکن پھر بھی ہم مہذب نہ کہلا سکے۔پھر ہم نے سوچا شاید فوجوں کی درستی اور جہازوں کی تعمیر سے ہم مہذب بن سکیں گے اس لئے ہم نے فوجوں کو اچھی طرح ترتیب دیا اور کئی ایک جنگی اور تجارتی جہاز تعمیر کئے لیکن یورپ والوں نے پھر بھی انکار کا سر ہلا دیا۔آخر ہم نے ایک موقع پر روس سے جنگ کی ہم تلوار لے کر اُٹھے اور منچوریا کے میدان میں ایک لاکھ سفید چمڑی والے روسیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا تب ہر طرف سے شور بلند ہوا اور چاروں طرف سے تاریں چھپنے لگیں کہ جاپانی بہت مہذب ہیں۔ہم تو برطانیہ کو اس سے بالا سمجھتے ہیں کہ اس کے نزدیک تہذیب اسی کا نام ہو لیکن اگر اس نے اپنے رویہ سے یہی ثابت کیا تو یہ بات ہماری آنکھیں کھولنے والی ثابت ہو گی۔ہم برطانیہ کو اس لئے اچھا خیال کرتے ہیں کہ ہم اسے دوسری قوموں سے زیادہ مہذب زیادہ انصاف پسند اور مظلوم کا حامی سمجھتے ہیں لیکن دنیا کے تختہ پر کون کسی ایسی خبیث طاقت ہو سکتی ہے جو عورتوں کے ننگ و ناموس پر حملہ کرنے والوں کو مظلوم سمجھے اور اگر حکومت ان لوگوں کو مظلوم سمجھتی ہے تو وہ کبھی شریف کہلانے کی مستحق نہیں۔لیکن میں سمجھتا ہوں برطانوی حکومت میں شرافت ضرور موجود ہے۔وہ صرف ہمارے ملک کے ان چھوٹے افسروں کی وجہ سے بد نام ہو رہی ہے جنہیں اس نے تو انتظام کے لئے مقرر کر رکھا ہے لیکن وہ اپنے فائدہ کو مدنظر رکھتے ہیں حکومت کے فائدہ کا انہیں کوئی خیال نہیں ہوتا۔وہ حکومت کے دست و بازو نہیں بلکہ غدار اور مفسد ہیں۔ہماری جماعت کا فرض ہے کہ اگر وہ عزت کی زندگی بسر کرنے کی خواہاں ہے تو ایسا طریق اختیار کرے جس سے حکومت پر ظاہر ہو جائے کہ وہ اس عزت کی مستحق ہے اور صبر نہ کرے جب