خطبات محمود (جلد 12) — Page 341
خطبات محمود ۳۴۱ سال ۱۹۳۰ء یہاں ایسے مخلص نہیں کہ ان کے دل ان لوگوں کو سزا دینے کے لئے بے تاب ہیں۔اس فتنہ کے شروع میں میں نے ان کو بلا کر کہا تھا کہ قادیان کے اندر مشہور شرابی بھی رہتے ہیں، بے نماز بھی یہاں ہیں اگر تم میں جرات ہے تو بازار میں کھڑے ہو کر ان کے خلاف کہہ تو دو کہ فلاں شخص شرابی یا کم از کم بے نماز ہی ہے پھر دیکھو کیا ہوتا ہے اور وہ جوتوں سے سیدھا کر دیتا ہے یا نہیں لیکن میرے خلاف تم اس لئے اس قدر شور و شر کر رہے ہو کہ تمہیں معلوم ہے کہ میں نے ہاتھ نہیں اُٹھانا۔منافق سخت بُزدل ہوتا ہے وہ اُسی وقت دلیر ہوتا ہے جب اسے معلوم ہو کہ میرے ہاتھ کو روکنے والا کوئی نہیں۔بعض منافق جا کر ان سے کہتے ہیں کہ ساری جماعت تمہارے ساتھ ہے اور وہ سمجھتے ہیں یہاں کوئی بھی مخلص نہیں اور اس لئے وہ اور بھی شرارتوں میں بڑھتے جا رہے ہیں۔اس کی زمہ داری گورنمنٹ پر بھی ہے کیونکہ گورنمنٹ کا قانون ہی ایسا ہے کہ جتنا کوئی شرافت سے کام لے وہ خاموش رہتی ہے اور جتنا کوئی بد معاشی کرے وہ اس کی تائید کرتی ہے لیکن اسلام کی تعلیم اس کے بر عکس ہے۔رسول کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! اگر کوئی شخص اپنی آنکھ سے اپنی عورت کو بد کاری کرتے دیکھتے تو کیا وہ اسے قتل کر دے۔آپ نے فرمایا۔نہیں۔اس نے عرض کیا شریعت نے بھی تو اس کو مار ڈالنے کا حکم دیا ہے۔آپ نے فرمایا۔با وجود یکه اسلام نے مار دینے کا حکم دیا ہے اس شخص کو خود قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔حکومت خود دخل دے گی۔پس اسلام فساد کے موقع پر مظلوم کو خاموش رہنے اور حکومت کو اس کا بدلہ لینے کی تعلیم دیتا ہے لیکن انگریزی قانون کہتا ہے کہ جب فساد کا خطرہ ہو ہم اُس وقت دخل دیں گے۔گوفساد کی تعلیم خود قانون دیتا ہے اس لئے شریف الطبع لوگ قانون کی حفاظت سے باہر ہیں اور خبیثوں کی تائید کیلئے وہ تیار ہے۔مگر باوجود یکہ ہماری پوزیشن نازک ہے اور حکومت کا قانون اس کے خلاف دلوں کو جوشوں سے بھر دینے والا ہے اور باوجود یکہ حکومت کے بعض ناقص قانون فساد کا اصل موجب اور فسادیوں کے مؤید ہیں ہم اس کی مخالفت نہیں کر سکتے۔چونکہ مذہب ہمیں اطاعت کا حکم دیتا ہے ہم حکومت کی ایسی خدمت کرتے ہیں کہ اس کے پانچ پانچ ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ پانے والے ملازم بھی کیا کریں گے مگر یہ سب دین کیلئے ہے۔کسی لالچ کیلئے نہیں۔باوجود یکہ حکومت کا قانون یہی بتاتا ہے کہ امن پسند لوگ فائدہ میں نہیں رہتے۔مگر ہم اس غیر منصفانہ فعل کے باوجود اس کی تائید ہی کریں گے وہ جس طرح چاہے اپنے آئین کی پابندی XXXXXXXX88