خطبات محمود (جلد 12) — Page 32
خطبات محمود ۳۲ سال ۱۹۲۹ء بنگال میں جب مسلمان مرتد ہونے لگے تو ہم وہاں پہنچے اور ان کو مرتد ہونے سے بچایا۔غرض ہم نے ہر وہ کام کیا جس سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچ سکتا تھا مگر اس کے مقابلہ میں میں دیکھتا ہوں کہ تعلیم یافتہ اور اتحاد کے حامی کہلانے والے لوگ بھی جب کوئی موقع آتا ہے تو ہمارے خلاف بغض کا اظہار کرتے ہیں۔شاید انہوں نے قوم کی خاطر قربانی کرنے کے یہ معنے سمجھے ہوئے ہیں کہ ہم ان کے لئے قربانی کرتے جائیں مگر خود وہ کچھ نہ کریں۔قربانی کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ دونوں طرف سے ہو مگر ایسی قربانی دُنیوی امور کے متعلق ہی ہو سکتی ہے دین کے معاملہ میں نہیں۔دین نہ ہم خود چھوڑنے کے لئے تیار ہیں نہ کسی سے چھڑاتے ہیں نہ ہم کسی کے مذہب کے متعلق طعن و تشنیع کرتے ہیں اور نہ اپنے عقائد اور اپنے مقتدا اور پیشوا کے متعلق برداشت کر سکتے ہیں۔میں اس خطبہ کے ذریعہ اعلان کرنا چاہتا ہوں ایڈیٹر صاحب الفضل جو یہاں آئے ہوئے ہیں وہ اس خطبہ کو لکھ کر اخبار میں شائع کر دیں گے کہ مسلمان اگر چاہتے ہیں کہ صلح و اتحاد ہو تو ہم سے شرافت اور تہذیب کے ساتھ سلوک کریں لیکن اگر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق یا احمدیت کے متعلق طعن و تشنیع سے کام لیں گے تو ہرگز صلح نہ ہوگی۔نہ ہم کونسلوں کی کوئی حقیقت سمجھتے ہیں نہ ملازمتوں کو کچھ وقعت دیتے ہیں، نہ تجارت کی کچھ قدر سمجھتے ہیں ہمارے نزدیک خدا اور رسول سب سے زیادہ عزیز ہیں۔ہمارے مقتدا نے جس طرح آریوں، ہندؤں اور عیسائیوں کے متعلق فرمایا ہے کہ اگر وہ ہمارے رسول کو گالیاں دیں گے اور بد زبانی کریں گے تو ہم جنگل کے درندوں اور شور زمین کے سانپوں سے صلح کر لیں گے مگر ان سے نہ کریں گے اسی طرح میں غیر احمدیوں سے کہتا ہوں اگر وہ ہمارے مقتدا کے متعلق طعن و تشنیع سے کام لیں گے اور غیر شریفانہ رویہ نہ چھوڑیں گے تو ہم سانپوں اور درندوں سے صلح کرلیں گے مگر ان سے نہیں کریں گے۔اگر ہماری تمام قربانیوں اور تمام خدمات کا یہی نتیجہ نکلنا ہے کہ وہ لوگ جو اتحاد کے دعویدار ہیں اور جو اتحاد کی تلقین کرتے رہتے ہیں وہ بھی ہمارے مقتدا پر ہنسی اور تمسخر کریں اور وہ اتنا بھی محسوس نہیں کر سکتے کہ ان کی ایسی باتوں کا ہم پر کیا اثر پڑ سکتا ہے تو ہماری ان کے ساتھ قطعا صلح نہیں ہو سکتی۔میں پوچھتا ہوں کیا اس خبر کو اُس وقت تک صحیح نہ سمجھا جاتا جب تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر طعن نہ کیا جاتا کوئی سمجھدار انسان یہ نہ سمجھے گا کہ جب تک ہم پر طعن نہ کیا جاتا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملہ نہ کیا جاتا اس خبر کا مطلب نہیں سمجھا جا سکتا تھا۔حضرت مسیح موعود