خطبات محمود (جلد 12) — Page 33
خطبات محمود ٣٣ سال ۱۹۲۹ء علیہ السلام پر حملہ کرنا تو الگ رہا آپ کا خیال آئے بغیر بھی اس خبر کو شائع کیا جا سکتا تھا اور پڑھنے والے اس کا مطلب سمجھ سکتے تھے۔مگر ایسی صورت میں جبکہ نہ تو اس خبر کے درست ہونے کی کسی نے تصدیق کی نہ کسی کو صحیح طور پر یہ معلوم ہوا کہ بچہ سقہ نے کیا دعویٰ کیا ہے خواہ مخواہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر طعن کرنا محض ہماری دل آزادی کے لئے ہے۔میں سمجھتا ہوں جس طرح مسلمان بادشاه نائب رسول اللہ ہونے کا دعوی کیا کرتے تھے اسی طرح اس نے بھی کیا ہو گا مگر کسی غیر ملکی نے جس کو اس بات کا پتہ نہ ہوگا یہ لکھ دیا کہ اس نے رسول اللہ کا دعوی کیا ہے چنانچہ دوسرے اخبار سیاست نے یہ الفاظ شائع کئے ہیں امیر حبیب اللہ خادم رسول اللہ ہے اسی طرح اس نے دعویٰ کیا ہو گا مگر اخبار والوں کو تو یہ معلوم ہی نہیں کہ اس نے کیا دعوی کیا۔نائب رسول ہونے کا یا رسول اللہ کا؟ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ان پڑھ ہے اگر یہ درست ہے تو شائد اسے یہ معلوم ہی نہ ہو کہ رسول اللہ کیا ہوتا ہے۔کئی جاہل لوگ جب مجھ سے ملتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں اَلسَّلامُ يَا نَبِيَّ اللهِ۔میں انہیں سمجھاتا ہوں اور بتا تا ہوں کہ میں نبی نہیں میں تو نبی کا نائب ہوں۔تو ممکن ہے جہالت کی وجہ سے اسے پتہ ہی نہ ہو کہ رسول اللہ کیا ہوتا ہے۔ایسی بے خبری اور جہالت کی حالت میں جو بات کہی گئی ہو اسے شائع کرتے ہوئے ایک ایسی جماعت کا دل دُکھانا جو مسلمانوں کے مفاد کے لئے ہر قربانی کر رہی ہے اور اس کے مقتدا کی ہنگ کرنا کہاں تک مناسب ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کوئی اس بات کو سمجھنے کے بعد امید رکھے کہ ہم ایسے لوگوں سے صلح رکھیں گے اور ان کے لئے قربانی کریں گے۔ہم نے اپنی قربانی اپنے رویہ اپنے طریق اپنے چال چلن اور اپنی خدمات سے ثابت کر دیا ہے کہ ہم مسلمانوں کے خیر خواہ ہیں۔ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم تھوڑے ہوتے ہوئے زیادہ کام کر سکتے ہیں اور کیا ہے۔ہم نے بتا دیا ہے کہ مخالفین اسلام کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم سب سے زیادہ بہادر سب سے زیادہ دلیر اور جری ہیں۔ہم نے غیروں سے کامیاب مقابلہ کیا مگر باوجود اس کے کہ ہم مسلمانوں سے دُنیوی اور سیاسی معاملات میں اور مشترکہ مقاصد میں اتحاد کی کچی خواہش رکھتے ہیں کبھی یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمارے مقتدا اور پیشوا اور اس کے سلسلہ کا تحقیر اور تذلیل کے طور پر ذکر کیا جائے اور پھر ہم صلح کر لیں۔میں نے دیکھا ہے کہ اخبار سیاست میں کئی لمبے لمبے مضامین انہیں دنوں ہمارے خلاف نکلے مگر میں نے ان پر بُرا نہ منایا۔میں نے جب ان مضامین کو پڑھا تو کہا جس