خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 307

خطبات محمود ۳۰۷ سال ۱۹۳۰ء اس کے تمام دل کو ڈھانپ لیتی ہے ہے تو نیک اور بددونوں قسم کے اعمال سمٹ کر انسان کے دل میں جمع ہو جاتے ہیں۔ہاں دن گزر جاتے ہیں۔جو چیز رمضان کے ذریعہ خدا تعالی لایا وہ دن رات نہیں تھے دن رات تو رجب شعبان شوال وغیرہ دوسرے مہینوں میں بھی ہوتے ہیں اس لئے رمضان دن رات نہیں بلکہ عبادت لایا تھا اور عبادت ایک ایسی چیز ہے جسے کوئی چھین نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ اسے لیتا ہے اور سمیٹ کر انسان کے دل میں رکھ دیتا ہے جہاں سے دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی اسے نکال نہیں سکتی۔مؤمن کو خواہ کس قدر تکالیف پہنچائی جائیں اسے ایمان سے محروم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ چیز اس کے دل کے اندر ہوتی ہے۔ایک واقعہ ہے کہ ایک صحابی گرفتار ہو گئے۔کفار نے چاہا کہ انہیں قتل کر دیں وہ صحابی دیکھ رہے تھے کہ انہیں قتل کرنے کو لے جارہے ہیں ایسی حالت میں کفار نے ان سے کہا کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اس وقت محمد تمہاری جگہ قتل ہونے کے لئے ہمارے قابو میں ہو اور تم اپنے گھر میں آرام کرو۔یہ بات اس خیال سے کہی گئی تھی کہ وہ صحابی اپنے دل میں یہ محسوس کر کے کہ یہ ساری مصیبت اس پر محمد عے کے ماننے کی وجہ سے آئی ہے دل میں پشیمان ہو کہ اگر ایمان نہ لاتا تو آج اس دکھ اور تکلیف میں مبتلاء نہ ہوتا اور یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔کفار نے یہ خیال پیدا کر کے ان کے ایمان کو متزلزل کرنا چاہا لیکن صحابی نے اس کے جواب میں کہا بے وقوفو! میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میں بیوی بچوں میں آرام سے بیٹھا ہوں اور محمد رسول اللہ علہ کے پاؤں میں کا نا بھی چھے سے یہ کیا چیز تھی جس نے ایسے وقت میں بھی ان کو ثابت قدم رکھا۔وہ ایمان تھا جو ان کی عبادات اور قربانیوں کو جمع کر کے اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں رکھ دیا تھا اور اس کی وجہ سے کفر کی کوئی بات بھی ان کے دن میں داخل نہ ہو سکتی تھی۔وہ ان کے ایمان کی محافظ تھی کیونکہ مؤمن کی عبادت کبھی ضائع نہیں جاتی۔یہ جمعہ اس لئے نہیں آیا کہ ہم رمضان کو رخصت کر دیں بلکہ اس لئے ہے کہ اگر چاہیں تو اس کا سے فائدہ اٹھا کر رمضان کو ہمیشہ کے لئے اپنے دل میں قائم کر لیں۔جمعہ کو رسول کریم ﷺ نے مسلمانوں کی عیدوں میں سے ایک عید قرار دیا ہے۔۴۔پس اس دن جب کہ دعا ئیں خصوصیت سے قبول ہوتی ہیں فائدہ اٹھانا چاہئے۔آج کے دن مؤمن اس لئے خدا تعالیٰ کے حضور نہیں آتا کہ کہے تو نے جو مصیبت ہم پر رمضان کی صورت میں نازل کی تھی شکر ہے وہ ٹل گئی بلکہ اس لئے