خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 287

خطبات محمود ۲۸۷ سال ۱۹۳۰ء سوال پیدا ہو رہا ہے کہ اب ہندوستان کو انگریزی اثر سے آزاد کرانا چاہئے۔یہ خیال ایسا قدرتی خیال ہے کہ کوئی بھی انسان اس سے آزاد نہیں ہو سکتا۔حب الوطنی ایسی چیز ہے جس سے کوئی انسان محروم نہیں گو بعض لوگ لالچ اور حرص و ہوا کی وجہ سے اسے دبا لیتے ہیں اور بعض اس کے صحیح معنی نہ سمجھنے کی وجہ سے غلط راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔میں ایک منٹ کے لئے بھی یہ باور نہیں کر سکتا کہ جو پولیس حکومت کے اقتدار کو مضبوط کرنے یا وہ C۔I۔D (خفیہ پولیس ) جو اس لئے مقرر ہے کہ حکومت کے خلاف خیالات کی اشاعت کرنے والوں کی سرگرمیوں سے ارکانِ حکومت کو مطلع کرتی رہے وہ بھی آزادی کے خیال سے عاری ہو۔دل میں وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ ہر قوم کو حق ہے کہ آزادی حاصل کرے لیکن چند پیسوں کے لئے وہ خیالات کو چھپانے پر مجبور ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہی لوگ جب پنشن پانے کے بعد گھروں میں جاتے ہیں تو وہ بھی آزادی کا شور مچانے لگ جاتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں پہلے بھی آزادی کا خیال تھا لیکن ملازمت کی وجہ سے وہ اسے ظاہر نہیں کرتے تھے۔غرضیکہ آزادی ایک ایسا جذبہ ہے کہ میں باور ہی نہیں کر سکتا کہ کوئی انسان اس سے خالی ہو۔فرق صرف ذریعہ حصول آزادی اور آزادی کی صورت کا ہے۔بعض لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ ہندوستان کو ایسے رنگ میں آزادی حاصل کرنی چاہئے کہ وہ انگلستان سے وابستہ بھی رہے لیکن اندرونی معاملات میں آزاد ہو بلکہ انگلستان جو بیرونی معاملات طے کرے ان میں بھی ہندوستان کو مساویانہ رائے دینے کا حق ہو جیسے آسٹریلیا اور کینیڈا وغیرہ کو ہے۔بعض لوگ اس کے خلاف ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ انگریزوں کا ہندوستان سے کس قسم کا بھی تعلق نہیں ہونا چاہئے اور ہندوستان جسے مناسب سمجھے بادشاہ یا صدر منتخب کر کے اپنا انتظام کرے جیسے جرمنی یا فرانس کی آزاد حکومتیں ہیں۔یہ نقطہ نگاہ کانگریس کی طرف سے پیش کیا گیا ہے اور اب اس تر و کو سارے ملک میں چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔کانگریس کی طرف سے اس نظریہ کے پیش ہونے سے قبل پنڈت موتی لال نہرو نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر جو بخیال خود ملک کے نمائندے بن گئے تھے کیونکہ انہیں کسی نے منتخب نہیں کیا تھا ایک طریق حکومت تجویز کیا تھا جس سے مسلمانوں کو عموماً اور جماعت احمدیہ کو خصوصا شدید اختلاف تھا کیونکہ اس کے ذریعہ حکومت ہندوؤں کے ہاتھ میں دے دینے اورمسلمانوں کے حقوق کو پامال کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔سکھوں کو بھی اس سے شدید