خطبات محمود (جلد 12) — Page 268
خطبات محمود ۲۶۸ سال ۱۹۳۰ء سے بھی بڑے ڈاڑھی منڈاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مرنے پر جب لوگ رو ر ہے تھے تو ایک چوہڑے نے پوچھا کیا ہوا ہے کیوں لوگ روتے ہیں؟ کسی نے بتایا مہا راجہ رنجیت سنگھ مر گئے ہیں۔یہ سن کر اس نے لمبی آہ بھری اور کہنے لگا با پوجیسے مرگئے تو رنجیت سنگھ کا کیا ہے۔تو گورنر بھی داڑھی منڈاتا ہے اس سے بڑا وائسرائے بھی منڈا تا ہے پھر وزیر ہند اور وزیر اعظم بھی منڈاتے ہیں۔بادشاہ نے رکھی ہوئی ہے مگر اس کے متعلق بھی بحث ہو رہی ہے کہ آئندہ شہزادہ ویلز جب بادشاہ ہوں تو ڈاڑھی رکھیں یا نہ رکھیں۔پس جب سارے کے سارے حکمران ڈاڑھی منڈاتے ہیں تو وہ باپوکس شمار قطار میں جسے طالب علم پیش کرتے ہیں۔یہ ہمارا کام ہے اور ہماری ذمہ داری ہے کہ اگر کوئی استاد ڈاڑھی منڈاتا ہے تو اس کے متعلق نوٹس لیں طالب علموں کے کام سے اس کا تعلق نہیں ہے۔اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض استاد سگریٹ پیتے ہیں۔یہ بات بھی ہمارے لحاظ سے تو اہم ہے مگر طالب علموں کے لحاظ سے نہیں۔میرے لحاظ سے اس لئے کہ ایسا شخص اس نظام کی جس کی نگرانی میرے سپرد ہے خلاف ورزی کرتا ہے مگر تمہارے نزدیک اس کی حقیقت ایک مرے ہوئے گئے جتنی بھی نہیں۔دیکھو گئی سکولوں کے استاد شراب بھی پیتے ہیں ڈاڑھی تو پھر بھی بادشاہ نے رکھی ہوئی ہے مگر شراب بادشاہ بھی پیتا ہے پھر کیا اگر کسی سکول کا کوئی انگریز استاد شراب پیئے تو اس میں پڑھنے والے طلبا ءہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم کیا کریں جب استاد شراب پیتا ہے۔ہمارے احمدی طلباء کالجوں میں پڑھتے ہیں اور کالجوں کے کئی پروفیسر شراب پیتے ہیں مگر طالب علم نہیں پیتے۔ہو سکتا ہے کہ اگر کسی پروفیسر کا کھانا کالج میں ہی لڑکوں کے سامنے آئے تو اس کے ساتھ شراب کی بوتل بھی ہو۔بس اگر کالجوں میں پڑھنے والے طلباء اپنے استاد کو شراب پیتا دیکھ کر شراب پینے نہیں لگ جاتے تو تم کسی استاد کو ڈاڑھی منڈھا دیکھ کر کیوں ڈاڑھی منڈانے لگ جاؤ تمہیں تو ڈاڑھی رکھ کر ایسے استاد کو شرمندہ کرنا چاہئے۔اسی طرح اگر کوئی استاد سگریٹ پی رہا ہو اور کوئی لڑکا اسے کہے ماسٹر صاحب ! یہ کام اچھا نہیں تو کیا ہی اچھی بات ہو۔اسی طرح اگر استاد تہجد نہیں پڑھتا اور لڑکے تہجد پڑھیں استاد نماز نہیں پڑتا لیکن لڑکے با قاعدہ نماز پڑھیں استاد تبلیغ کے لئے نہیں جاتا مگر لڑ کے جائیں استاد قرآن نہیں پڑھتا مگر لڑ کے پڑھیں تو استاد خود بخو د شرمندہ ہو گا۔یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اُستاد سٹڈی (STUDY) کے وقت قرآن نہیں پڑھنے دیتے۔ایسے