خطبات محمود (جلد 12) — Page 264
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء سے مشورہ لے لینے سے دور نہیں ہو جاتی۔مثلاً کسی سکول کا ہیڈ ماسٹر میرے پاس آ کر کہے میں یہ بات کرنا چاہتا ہوں اور میں کہہ دوں کر لو۔لیکن کسی قاعدہ کی خلاف ورزی کی وجہ سے ناظر اس کے متعلق پوچھے اور ہیڈ ماسٹر کہہ دے خلیفہ اسیح کے مشورہ سے میں نے ایسا کیا تو یہ جائزہ نہ ہو گا۔میں صرف انہی امور کے متعلق کسی کو مشورہ دے سکتا ہوں جن کا کرنا اس کے اپنے اختیار میں ہو اور پھر ان میں بھی ذمہ داری اسے اپنے اوپر لینی چاہئے نہ کہ مجھ پر رکھنی چاہئے۔یہی قاعدہ ناظروں کے لئے ہے۔انہیں حق ہے کہ مجھ سے مشورہ لیں مگر پھر وہ کام اپنی ذمہ داری پر کرنا ہوگا کیونکہ جو رائے میں دیتا ہوں اس کے متعلق ان کی مرضی پر ہوتا ہے کہ عمل کریں یا نہ کریں۔ہاں جب نظارت کسی امر کے متعلق میرا مشورہ نہیں بلکہ حکم لینا چاہتی ہے تو اس کیلئے وہی پابندی ہے کہ اس کا کاغذ ناظر اہلی کے ذریعہ آئے۔اُس وقت میں جو حکم دوں اُس کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے لیکن جو مشورہ براہِ راست لیا جائے اس کی ذمہ داری مشورہ لینے والے پر ہی ہوتی ہے۔یہ ایسا طریق عمل ہے کہ جس کی وجہ سے کوئی دھوکا نہیں لگ سکتا۔مگر بہت لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ہمیں مشورہ لینے یا کوئی بات پیش کرنے کا حق حاصل نہیں۔حق ہر ایک کو ہے لیکن یہ نہیں کہ ذمہ داری مجھ پر ڈالی جائے بلکہ خود ذمہ دار ہونا چاہئے۔یہ ہدایات میں نے اس لئے دی ہیں کہ باہر کی جماعتیں بھی اس قسم کی غلط فہمیوں سے بیچ سکتی ہیں جو لاعلمی کی وجہ سے پائی جاتی ہیں اور ان لوگوں کا حجاب بھی دور ہو سکتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ افسروں کی شکایتیں کر سکتے ہیں یا نہیں۔اس میں نہ افسر کے لئے کوئی خاص حق ہے نہ ماتحت اس حق سے محروم ہے اور نہ طالب علم اس سے محروم ہے۔ایک طالب علم اسی طرح کوئی بات مجھ تک پہنچا سکتا ہے جس طرح مدرس اور ایک مدرس اسی طرح مجھ تک پہنچا سکتا ہے جس طرح ہیڈ ماسٹر اور ہیڈ ماسٹر اسی طرح اپنی بات میرے سامنے پیش کر سکتا ہے جس طرح ناظر اور ناظر اسی طرح مجھ سے مشورہ لے سکتا ہے۔جس طرح ناظر اعلیٰ۔مگر جو فرق میں نے بتایا ہے اسے ملحوظ رکھنا چاہئے۔یعنی اگر کوئی خود مشورہ کے لئے آئے تو چونکہ ہر ایک احمدی کے ساتھ میرا ایسا ہی تعلق ہے جیسا کہ ایک باپ کو اپنے بیٹے سے اور مربی کو اپنے ساتھ تعلق رکھنے والے سے۔اس لئے جس طرح ماں باپ مشورہ دیتے ہیں اسی طرح میں بھی دوں گا۔مگر وہ میرا مشورہ بلحاظ نظام اور سلسلہ کے نہ ہوگا بلکہ بلحاظ خلافت کے اس روحانی تعلق کے ہوگا جو ہر ایک احمدی کے ساتھ ہے مگر