خطبات محمود (جلد 12) — Page 233
خطبات محمود سال وہ جامع انسان کے تمام کمالات جذب نہیں کر سکتے اس لئے کسی خاص رنگ کی طرف اشارہ نہیں کیا بلکہ یہی فرمایا جس سے مشابہت ہو اسی رنگ کی پیروی کر لی جائے۔تیسرا مطلب اس سے یہ ہے کہ دل کا لفظ بہت دھوکا دینے والا ہے اور یا درکھنا چاہئے کہ دل زمین کا نام ہے بیج کا نہیں۔بیج اس کے لئے مختلف ہوتے ہیں جو اپنے اپنے موسم میں ہی اس کے اندر نشو و نما پا سکتے ہیں۔انسانی قلوب کے موسم دنیوی موسموں کی طرح نہیں ہوتے جن کا اثر ایک وقت میں ہر جگہ ایک ہی قسم کا ہوتا ہے بلکہ ہر قلب کے لئے الگ موسم ہوتا ہے۔ایک شخص کے دل پر جس وقت بھادوں والی کیفیت طاری ہوتی ہے اُسی وقت دوسرے کے دل پر ساون یا چیت کی کیفیت ہوتی ہے چنانچہ دیکھا جاتا ہے کہ دنیا میں کوئی شخص جس وقت ہنس رہا ہوتا ہے دوسرا رو رہا ہوتا ہے۔فرض کر لو دل کے اس موسم کا نام جس میں نیک بات کا اثر اس پر ہوتا ہے ساون رکھ لیا جائے تو یہ کیفیت جس انسان کے قلب کی ہوگی اس پر تو ایک نیک بات فورا اثر کر جائے گی۔لیکن ایک دوسرا شخص جو بظاہر نیکی میں پہلے شخص سے بڑھا ہوا ہو لیکن اس کی قلبی کیفیت ساون کی نہیں بلکہ بھادوں کی ہو وہ اس بات کو سن کر کوئی اثر قبول نہیں کرے گا کیونکہ ساون میں بھادوں کی کھیتی نہیں اُگ سکتی۔تو دل بہت بڑی تنویع رکھتا ہے اور مختلف حالتوں میں اس پر مختلف اثرات ہوتے ہیں۔دل تو دل مادیات میں بھی اثر قبول کرنے کا مادہ ہوتا ہے۔ایک موقع پر ایک انگریزی فوج | ایک پل پر سے گذر رہی تھی فوج کے آگے آگے باجہ بجتا جاتا تھا اور جوش انگیز گیت گائے جاتے تھے تا سپاہیوں میں جوش پیدا ہو اُس وقت پل یک لخت گر گیا اور بہت سے آدمی دریا میں گر کر ہلاک ہو گئے۔بعد میں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مادیات میں بھی خاص قسم کی حرکتیں ہوتی ہیں اور جس وقت باہر کی سُر میں ان کی اندرونی حرکتوں سے مشابہ ہو جائیں تو ان میں ایک سرور کی حالت پیدا ہو جاتی ہے اور اسی سرور کی وجہ سے ہی حرکت میں آ کر وہ پل گر گیا۔ایسی کیفیات جانوروں میں بھی پائی جاتی ہیں اور مادے میں بھی۔گو مادہ کی ایسی باریک ہوتی ہیں کہ ان کا سمجھنا آسان نہیں ہوتا اور جانوروں کی نسبتاً آسانی سے کبھی جاسکتی ہیں۔سانپ بین پر ناچنے لگ جاتا ہے لیکن اس کیلئے بھی خاص کریں ہوتی ہیں جنہیں سپیرے ہی جانتے ہیں۔نیز وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ فلاں قسم کا سانپ کونسی سر پر ناچتا ہے۔کوئی دوسرا اگر بین بجائے تو اس کا سانپ پر کوئی اثر