خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 232

خطبات محمود ۲۳۲ سال ۱۹۲۹ء ایک دوسرے سے بالکل جدا گانہ ہوتے ہیں۔کوئی کسی سے ملتا ہے اور کوئی کسی سے لیکن جیسے آم یا گیہوں میں اختلاف ہونے کے باوجود ان میں بعض باتیں مشترک بھی ہوتی ہیں جیسے کہ خاص موسم میں بوئے جاتے ہیں، خاص قسم کا کھاد ڈالا جاتا ہے اور خاص وقت پر پانی دیا جاتا ہے گویا با وجود اختلاف کے بعض باتوں میں اشتراک بھی نظر آتا ہے یہی حال انسانوں کا ہوتا ہے مگر باوجود اس کے میلان کا اختلاف موجود ہے۔ہر ایک کا رنگ جدا اور طبیعت علیحدہ ہے اور یہ ہونا بھی چاہئے تھا کیونکہ اگر ایک ہی رنگ ہوتا تو دنیا ہدایت سے محروم رہ جاتی۔کیونکہ کسی انسان میں محمدی میلان ہے کسی میں موسوی اور کسی میں عیسوی کسی میں ابرا جیمی۔اسی لئے جہاں میلان کا سوال تھا وہاں اللہ تعالیٰ نے صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ فرمایا اور جہاں اتباع کا سوال تھا وہاں یہ فرمایا إن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله کے یعنی تم اس کے نقشِ قدم پر چل کر جس سے تمہارا میلان طبع ملتا ہے محمد کے ہم نقش ہو جاؤ۔جس طرح لوگ ایک اکسیر بناتے ہیں جس میں ہر قسم کی طبائع کو محوظ رکھ کر دوائیں ڈالی جاتی ہیں جو دموی صفرائی، بلغمی ہر قسم کے مزاج والوں کو فائدہ دیتی ہے۔اسی طرح قرآن کریم کی سورۃ فاتحہ بھی ایک اکسیر ہے جس کے اندر سب مزاج والوں کے لئے فائدہ اُٹھانے کی تاثیر رکھی گئی ہے۔صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں یہ سکھایا گیا ہے کہ اے خدا! میرے میلان کے لحاظ سے جو قریب ترین رستہ ہے اس پر مجھے لے چل اور پھر آگے جس جس سے میلان ملتا جائے اس کے رستے پر چلنے کی توفیق دے۔جس طرح مفرد سے مرکب اور مرکب در مرکب بنالئے جاتے ہیں یا جیسے پہلے ایک آدمی کا بدن ٹھنڈا ہوتا ہے اور وہ اسے گرم کرتا ہے تو پھر زیادہ گرم ہو جانے سے اسے دوبارہ ٹھنڈی ہوا کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔یا جیسے ایک شخص کو بلغم کا غلبہ ہوتا ہے اور پھر جب بلغم نکال دیا جائے تو کسی اور مرض کا غلبہ ہو جاتا ہے۔اسی طرح روحانی مزاجوں کا حال ہوتا ہے ایک شخص عیسوی مزاج رکھتا ہے اس کے لئے أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے معنے عیسوی رستہ ہوں گے لیکن جب اس پر چلتے چلتے اس کے اندر دوسری حالت پیدا ہو جائے گی تو پھر اس کے معنے اس کے لئے موسوی رستہ ہو جائیں گے پھر اسی طرح حضرت نوح، حضرت ابراہیم اور آنحضرت اللہ کے رستہ کے ہو جائیں گے۔اسی وجہ سے صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ رکھا گیا۔محمد رسول اللہ ﷺ کا نام نہیں لیا کیونکہ سب لوگ ابتدائی حالت میں اپنے اندر جامعیت نہیں رکھا کرتے۔ان کے خواص محدود ہو تے ہیں اس لئے