خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 231

خطبات محمود صلى الله میں صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا مانگنے کے لئے کہا گیا۔حالانکہ محمد رسول اللہ ہے کی ذات بابرکات موجود تھی اور آپ سے بڑھ کر کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔پھر قرآن نے یہ کیوں نہ کہا کہ صراط محمد کی دعا مانگو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنے رنگ میں ایک علیحدہ خاصیت رکھتا ہے اور اس کی طبیعت کا ایک خاص میلان ہوتا ہے مگر محمد بیت جامع ہے تمام کمالات کی اور جب تک جامعیت حاصل نہ ہو محمد بیت حاصل نہیں ہو سکتی۔اس لئے صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ فرمایا صراط محمد ملے نہ فرمایا۔حالانکہ محمد بیت میں بھی سب چھوٹے بڑے درجے موجود ہیں۔شہداء ہیں، صلحاء ہیں، صدیق ہیں اور انبیاء ہیں۔پھر انبیاء میں سے بھی بعض کو بعض پر فضیلت ہے۔اور حقیقت تو یہ ہے کہ اگر یہ تفریق انبیاء میں نہ ہوتی تو اس قدرا انبیاء کی ضرورت بھی نہ ہوتی کیونکہ خدا تعالیٰ دنیا میں دو چیزیں ایک سی پیدا نہیں کیا کرتا ہر چیز کی پیدائش ایک ہی ہوتی ہے اور گو جنس میں فرق نہ ہو لیکن افراد میں ضرور فرق ہو گا اگر بعض جگہ ظاہری شکل میں نہیں تو ان میں باطنی فرق ضرور ہو گا غرضیکہ دنیا میں کوئی دو چیزیں ایسی نہیں جن میں ظاہرا اور باطنا کوئی فرق نہ ہو۔اگر پھلوں کا رنگ ملتا ہے تو خواص میں فرق ہوگا اگر خواص ملتے ہوں تو مزے میں فرق ہوگا اور اگر مزا ایک سا ہو تو تا شیر یکساں نہیں ہوگی۔غرضیکہ اللہ تعالیٰ کسی بات کو دُہرایا نہیں کرتا جب کوئی چیز پیدا کرتا ہے نئی پیدا کرتا ہے۔اس کی ذات اس سے بالا ہے کہ اسی چیز کو پھر لائے اس لئے اللہ تعالیٰ نے کبھی کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جو پہلے کے ہو بہو مطابق ہو۔نادان لوگ تمثیل کا لفظ پڑھ کر کہہ دیتے ہیں اس میں فلاں بات ویسی نہیں۔مثلاً قرآن کریم نے رسول کریم ﷺ کے متعلق فرمایا كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً کے تو اعتراض کر دیا یہ عصا کا سانپ کیوں نہیں بنا کر دکھاتا۔حضرت مسیح کی مماثلت کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے مُردے زندہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔اس وقت اس بحث کو جانے دو کہ اُن کا مُردے زندہ کرنا کن معنوں میں تھا اس سے قطع نظر کر کے بھی ضرور تھا کہ مشابہت کے باوجود اختلاف ہوتا۔یہ کہنا کہ جو کچھ اُس نے کیا وہی یہ بھی کرے۔خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کی صفات پر حملہ ہے اُس کی ذات سے ہر چیز مختلف آتی ہے۔انبیاء صلحاء، شہداء سب مختلف درجے رکھتے ہیں۔غرض کوئی دو انسان ایسے نہیں مل سکتے جو ہر رنگ میں ایک۔ہوں۔ضرور ہے کہ ان میں فرق ہو کیونکہ انسان مختلف قسم کے ہوتے ہیں اور ان کے میلانات طبع