خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 223

خطبات محمود FFF سال ۱۹۲۹ء برداشت کی طاقت یا سمجھنے کی قابلیت ہو اور اتنا ہی سلوک کرتا ہے جسے سنبھالنے کی قوت ان کے اندر موجود ہو۔اور مقتضائے وقت کے لئے بھی یہ ساری باتیں ضروری ہیں۔مثلاً یہ کہ سزا اتنی دی جائے جتنی قابل برداشت ہو اور وہ غرض پوری ہو جس کے لئے سزا دی جاتی ہے اور اگر انعام دیا جائے تو اس طرز پر دیا جائے کہ جسے انعام مل رہا ہے اسے سنبھال سکے اور تدریجی طور پر دیا جائے تا کہ اس سے فوائد حاصل کر سکے۔اور پھر معاملہ کرے تو ایسا کہ جو قابلیت کے مطابق ہو ایسا نہ ہو کہ جس سے کیا جائے اُس میں فائدہ اُٹھانے کی قابلیت ہی نہ ہو۔یہ باتیں ہر حالت کے لئے ضروری ہیں۔سزا کو لے لو اگر اس میں تدریج نہ ہو تو وہ غرض و غایت ہی مفقود ہو جاتی ہے جو سزا دینے کی ہوتی ہے اور سزا سزا نہیں رہتی۔مثلاً اگر دنیا میں ایک ہی سزا ہو جو انتہائی ہو تو دنیا کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔انتہائی سزا فنا ہی ہے اگر یہی ہو اور اس کی درمیانی حالتیں نہ ہوں نزلہ زکام بخار شدید در دیں یا اور اندرونی بیماریاں نہ ہوں اور انسان یکدم مر جائے تو اس سزا کا کوئی فائدہ نہیں نہ تو ایسی سزا کو لوگ سزا سمجھ کر عبرت حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی سزا کا وہ خوف ہو سکتا ہے جو اب ہے۔بہت سی چیزوں کا ڈراوا ہی انسان کی اصلاح کر دیتا ہے لیکن اگر وہ واقعہ میں آجائیں تو پھر انسان کچھ نہیں کر سکتا مثلاً موت ہے جب یہ آ جائے تو انسان مر جاتا ہے اور موت اپنی ذات میں کوئی خاص تکلیف یا شدت بھی نہیں رکھتی لیکن موت کا ڈر انسان سے بہت کچھ کرا لیتا ہے۔پس موت سے اتنا فائدہ نہیں ہوتا جتنا اُس کے خوف سے ہو سکتا ہے۔انسان پر اگر تھوڑا سا عذار آئے تو وہ سمجھتا ہے معلوم نہیں آگے کیا ہو اس لئے وہ اپنی اصلاح کی فکر کرتا ہے۔اسی طرح اسے جب ایک معمولی بیماری لگ جائے تو وہ فورا اس سے اگلی سے ڈرنے لگ جاتا ہے مثلاً اگر نزلہ ہو تو ڈرتا ہے کہیں بخار نہ ہو جائے اور اگر بخار ہو جائے تو انفلوئنزا کے خوف سے کانپنے لگتا ہے اور اگر انفلوئنزا ہو جائے تو نمونیہ سے خوف کھانے لگ جاتا ہے اور علاج کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔پس یہ بات انسان کی عادت میں داخل ہے کہ جو تکلیف اسے پہنچے اس سے اگلی کا اس کے دل میں ڈر پیدا ہو جاتا ہے اور اسی ڈر کی وجہ سے وہ پر ہیز بھی کرتا ہے اور علاج کی بھی کوشش کرتا ہے۔لیکن اگر ایسا ہو کہ موت ہی آ جائے اور صحت اور موت کی درمیانی حالت کوئی نہ ہو تو پھر کوئی انسان پر ہیز نہ کرے گا۔وہ سمجھے گا جو ہونا ہے وہ تو ہو چکا اب میں بچ نہیں سکتا پھر پر ہیز کس لئے کروں۔