خطبات محمود (جلد 12) — Page 221
خطبات محمود ۲۲۱ سال ۱۹۲۹ء کے قصے پڑھ کر عاشقانہ رنگ ظاہر کرتے ہیں لیکن یہاں عملاً عاشقانہ رنگ ٹپکتا ہے جو ضروری ہے کہ اثر کر کے رہے۔یہاں عجیب نظارہ ہوتا ہے لوگ راتوں کو جاگتے ہیں پھر بھی تہجد کے وقت پہلی صفوں میں جگہ لینے اور ذکر الہی کرنے کیلئے سب سے پہلے مسجد میں آنے کی کوشش کرتے ہیں۔نہ سردی کی پرواہ ہے نہ بیماری کی نہ معلوم وہ آرام کسی وقت کرتے ہیں اور کس وقت سوتے اور کس وقت جاگتے ہیں۔غرضیکہ ایسا پُر لطف نظارہ ہوتا ہے جو دنیا کے پر وہ پر اور کہیں نظر نہیں آتا۔ایک جگہ یہ نظر آنا چاہئے تھا مگر افسوس وہاں بھی نہیں۔میں نے خود حج کے موقع پر دیکھا کہ لبيك اللهم لبیک پکارنے کی بجائے لوگ گندے شعر پڑھ رہے تھے۔اگر لاکھوں میں ایک آدمی ایسا ہوتا تو میں اسے قابل تعریف سمجھتا کیونکہ معمولی نقص حسن کو دوبالا کرتا ہے لیکن نہیں عرفات میں میں نے دیکھا ٹولیوں کی ٹولیاں خاص ذکر الہی کے وقت باتوں میں مصروف تھیں۔پس جس مقام کو اللہ تعالیٰ نے سب مقاموں سے فضیلت دی جس کا نام بیت اللہ رکھا اور جو اس لحاظ سے سب سے زیادہ خشیت الہی کا مقام ہونا چاہئے تھا وہاں بھی وہ نمونہ نظر نہیں آتا اور اگر دنیا کے پردہ پر وہ فریفتگی اور وہ عاشقانہ رنگ نظر آتا ہے جو سرد سے سرد دلوں کو بھی آتشِ عشق سے گر مادے تو وہ جلسہ کے ایام میں قادیان میں نظر آتا ہے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ وقت نکال کر خود آئیں اور تحریک کر کے اپنے دوستوں کو بھی ساتھ لائیں شاید ان کی ہدایت کا دن خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہو چکا ہو اور شاید وہ دشمن کی صف سے نکل کر خدا تعالیٰ کے دوستوں کی صف میں شامل ہو جائیں۔نئے سال کا تحفہ اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نور اور اس کے کلام کا تحفہ ہو اور خدا تعالیٰ کی فوج میں داخل ہونے کا موقع میسر آ جائے۔پس مبارک ہیں وہ جو اپنے دوستوں کو یہ تحفہ دینے کی نیت سے اپنے ساتھ لاتے ہیں جس سے بڑھ کر دنیا میں اور کوئی تحفہ نہیں ہو سکتا۔( الفضل ۱۳۔دسمبر ۱۹۲۹ء) مسلم كتاب الفضائل باب من فضائل علی ابن ابی طالب مسلم کتاب الایمان باب جواز الاستسرار بالايمان للخائف