خطبات محمود (جلد 12) — Page 214
خطبات محمود ۲۱۴ سال ۱۹۲۹ء اس سے بیرونی اصحاب اتنا فائدہ نہیں حاصل کر سکتے جتنا حاصل کرنا چاہئے کیونکہ وہ یہاں کی مالی تنگی کا اندازہ کرنے سے قاصر ہیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ بیرونی جماعتوں نے قربانیاں نہیں کیں۔انہوں نے بھی شاندار نمونے پیش کئے ہیں اور سوائے چند ایک کے جنہوں نے سستی کی ہے باقی سب نے اپنے اپنے حصہ کا بوجھ اٹھایا ہے اور بعض نے تو اس رقم سے جو اُن کے ذمہ لگائی گئی تھی دو گئی اور تگنی رقم ادا کی ہے۔در حقیقت اب جلسہ سالانہ ایک مستقل صیغہ ہو گیا ہے اور اس میں شامل ہونے والوں کی تعداد میں جس سُرعت سے ہر سال ترقی ہوتی ہے اس نے اسے ایک مستقل بوجھ بنا دیا ہے جو جماعت کو اُٹھانا پڑتا ہے یہ اُٹھانا پڑے گا اور اُٹھانا چاہئے۔اگر دنیا میں کوئی ایسا ابتلاء ہے جس کے لئے انسان دعا مانگ سکتا ہے کہ اے خدا! اس میں ترقی دے تو میرے خیال میں وہ اللہ تعالیٰ کے دین کیلئے مالی قربانی کرنے کا ابتلاء ہی ہے۔ابتلا ء سے انسان کے مدارج بڑھتے ہیں مگر شریعت نے اجازت نہیں دی کہ انسان خود اس کے لئے خواہش کرے۔بیماریاں بھی انسان کے مدارج بڑھاتی ہیں، دوسری تکالیف اور مصائب سے گذرنا بھی ایمان کو ترقی دیتا ہے مگر ان کے آنے کے لئے دعا مانگنے کی اجازت نہیں۔اسی طرح لڑائیاں اور جھگڑے بھی انسان کو ایمان میں بڑھا جاتے ہیں اور وہ اس آگ میں پڑ کر کندن کی طرح صاف ہو جاتا ہے مگر یہ جائز نہیں کہ انسان دعا کرے خدایا! دنیا میں فتنہ و فساد ترقی کرے۔دوسروں کی غداریاں اور بے وفائیاں بھی ازدیاد ایمان کا موجب ہو جاتی ہیں لیکن ان کے لئے بھی دعا کرنی ہے۔غرضیکہ ابتلاؤں کے لئے دعا جائز نہیں مگر بعض ابتلاء ایسے ہوتے ہیں جن کے لئے انسان دعا کر سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے۔اللَّهُمَّ زِدْ فَرد اور ایسے ہی ابتلاؤں میں سے الہی سلسلوں کی خدمت کے لئے قربانیاں کرنا ہے۔پس یہ ایسے ابتلاؤں میں سے ہے جو نہ صرف اخلاص کو بڑھاتے ہیں بلکہ ہم ان کے متعلق دعا کر سکتے ہیں کہ رَبِّ الْعَلَمِینَ یہ ابتلاء اور بھی بڑھے کیونکہ یہ ایک صورت میں تو ابتلاء ہوتا ہے اور ایک میں طاقت وقوت کا موجب۔اس میں اور دوسرے ابتلاؤں میں فرق ہے وہ انسان سے کچھ لے جاتے ہیں مگر دیتے نہیں لیکن یہ ایسا ہے کہ لیتا ہے تو دیتا بھی ہے کیونکہ اس سے ہر سال سینکڑوں لوگ سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں اور اس سے وہ چیز ملتی ہے جس کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اے علی ! اگر ایک انسان بھی تجھ سے ہدایت پا جائے تو تیرے لئے ان دو پہاڑوں کے درمیان اگر سرخ اونٹ بھر دیے جائیں تو اس