خطبات محمود (جلد 12) — Page 215
خطبات محمود ۲۱۵ سال ۱۹۲۹ء۔سے بھی بہتر ہے۔تو ایک انسان کی ہدایت کے مقابلہ میں اموال کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے گجا یہ کہ سینکڑوں ہدایت یاب ہوں۔وہ کیا ہی لطیف نظارہ ہوتا ہے جب سینکڑوں لوگ آگے بڑھ بڑھ کر سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں اور نئی جماعتیں پیدا ہوتی ہیں۔کیا ۱۹۰۷ ء کے جلسہ کی یاد خدا تعالیٰ کی شان کے ظاہر کرنے کا ذریعہ نہیں۔یہ جلسہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں آخری جلسہ تھا اس میں صرف سات سو آدمی شامل ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیر کیلئے باہر نکلے تو کئی سو کا مجمع تھا آپ واپس آ گئے اور فرمایا اب تو ان دنوں کثرت ہجوم سے ہم سیر کو نہیں جا سکتے۔تو ایک وہ وقت تھا جب سات سو لوگ آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سیر ترک کرنی پڑی کہ لوگ زیادہ ہیں حالانکہ سارے کے سارے تو سیر کے وقت ساتھ نہیں ہو گئے تھے مگر پھر بھی آپ نے خوشی کا اظہار فرمایا کہ جماعت ترقی کر رہی ہے۔اور اب کچھ سالوں سے جلسہ پر قریباً سات ہو لوگ نئے بیعت کر کے جاتے ہیں اور یہ تعداد آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔پہلے سالوں میں دو اڑھائی سو بیعت کرتے تھے پھر تین چار سو پھر پانچ چھ سو اور ایک دو سالوں سے سات سو کے قریب کرتے ہیں۔اس سات کے ہندسہ کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ ترقی سے خاص وابستگی ہے۔رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ مسلمانوں کی مردم شماری کرائی تو گل زن و مرد اور بچے سات سو تھے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے مردم شماری کیوں کرائی ہے کیا آپ کا خیال ہے کہ ہم تباہ ہو جائیں گے اب تو ہم سات سو ہو گئے ہیں اب ہمیں کون تباہ کر سکتا ہے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری جلسہ میں بھی سات سو لوگ تھے۔تو اس سات کے ہندسہ کو دینیات سے خاص تعلق معلوم ہوتا ہے اور یہ کثرت پر دلالت کرتا ہے۔غرض جلسہ سالانہ بہت سی برکتیں اپنے ساتھ لاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت لوگوں کی ہدایت کا موجب ہوتا ہے اس لحاظ سے ہمیشہ ترقی کر رہا ہے اور میں خوش ہوں کہ ہمارے دوستوں نے مالی پہلو کے لحاظ سے اسے کامیاب بنانے کی پوری پوری کوشش کی ہے اور جو شہستی دکھانے والے ہیں وہ بھی امید ہے اسے ترک کر کے پیچھے رہنے والوں کیلئے نمونہ بنیں گے اگر پہلوں کے لئے نہیں بن سکے۔اس موقع پر میں خوشی سے یہ اعلان بھی کرتا ہوں کہ مدرسہ احمدیہ نے اس ضمن میں خصوصیت