خطبات محمود (جلد 12) — Page 206
خطبات محمود ۲۰۶ ۲۸ سال ۱۹۲۹ء بچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلیل کرو (فرموده ۲۹۔نومبر ۱۹۲۹ء ) تشهد تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اس قدر اختلاف پیدا کیا ہے کہ در حقیقت کوئی دو چیزیں بھی آپس میں نہیں ملتیں۔ہر ایک چیز دوسری سے مختلف ہے حتی کہ خاوند اور بیوی باپ اور بیٹا ماں اور بیٹی کا بھی آپس میں اختلاف ہے اور ایسے ایسے اختلاف نظر آتے ہیں کہ جنہیں کسی حد بندی میں لانا بالکل ناممکن ہے۔کیا بلحاظ میلانات طبع کیا بلحاظ جذبات کیا بلحاظ قابلیتوں کے کیا بلحاظ طاقتوں کے اور کیا بلحاظ عقل کے بہت بڑا فرق آپس میں پایا جاتا ہے۔پس اس اختلاف کے باوجود یہ امید رکھنی کہ کسی کو کسی بات میں اختلاف نہ ہو عقل کے خلاف ہے اور ناممکن ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے انسانی طبائع مختلف بنائی ہیں تو یہ امید کیونکر کی جاسکتی ہے کہ سب ایک ہی رنگ میں رنگین ہو جائیں سب ایک ہی مقصد کے پیچھے ایک ہی طرح چل پڑیں اور خیالات اور اعمال کے لحاظ سے باکل ایک ہو جائیں۔یہ بالکل ناممکن ہے مگر بعض چیزوں میں خدا تعالیٰ نے اتحاد بھی رکھا ہے جس اتحاد کی وجہ سے ہم مختلف چیزوں کو علیحدہ علیحدہ کر لیتے ہیں۔مثلاً گھوڑے کا بھی منہ ناک کان، آنکھیں ہوتی ہیں اور انسان کا بھی منہ ناک، کان، آنکھیں ہوتی ہیں مگر باوجود اس کے کہ انسانوں کے ناک اور کانوں وغیرہ میں ایک دوسرے سے اختلاف ہوتا ہے اور کوئی دوانسانوں کے ناک کان آپس میں نہیں ملتے ، حتی کہ تو ام پیدا ہونے والے بچوں کے جو ظاہری طور پر بالکل