خطبات محمود (جلد 12) — Page 207
خطبات محمود ۲۰۷ سال ۱۹۲۹ء ایک سے ہوتے ہیں خوردبین کے ذریعہ ان میں بھی اختلاف نظر آتا ہے۔لیکن باوجود اس کے کہ تمام انسانوں کی شکلوں میں اختلاف ہوتا ہے ہم دیکھتے ہی کہہ دیتے ہیں یہ انسان ہے اور یہ گھوڑا ہے۔کیونکہ انسان اور گھوڑے اپنی اپنی نوع کے ساتھ خاص اشکال میں متحد ہوتے ہیں تو اختلاف کے باوجود اتحاد بھی ہم کو نظر آتا ہے۔جس طرح ظاہری شکلوں میں اختلاف ہوتا ہے اور اتحاد بھی اسی طرح اخلاق میں اختلاف بھی ہوتا ہے اور اتحاد بھی۔مثلاً بیسیوں باتیں ایسی ہیں جو انسان نہیں کر سکتا اور ان کا کرنا اس کے لئے ناممکن ہوتا ہے۔اسے لاکھ سمجھا ئیں کہ فلاں کام کر لو لیکن اسے ماننے کے باوجود اس کے لئے کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ایک کمزور آدمی جس میں دس سیر بوجھ اٹھانے کی طاقت ہے ایک من نہیں اٹھا سکے گا۔لیکن بعض کام ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا کرنا انسان کے لئے ناممکن نہیں ہوتا۔مثلا نماز پڑھنا ہے یہ ہو سکتا ہے کہ ایک انسان کھڑا ہو کر نماز ادا نہ کر سکے لیکن یہ ممکن نہیں کہ وہ نماز پڑھ ہی نہ سکے کیونکہ نماز ادا کرنے کے لئے بہت سی سہولتیں ہیں جو کھڑا ہو کر ادا نہیں کر سکتا بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے اور جو بیٹھ کر بھی نہ پڑھ سکے وہ لیٹ کر پڑھ سکتا ہے۔پھر لیٹنے کی بھی کوئی خاص شکل قائم کرنا ضروری نہیں جس طرح ہو سکے ادا کر سکتا ہے اس لئے کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ نماز پڑھ ہی نہیں سکتا اور کوئی عظمند یہ بات تسلیم نہیں کر سکتا کہ کسی کے لئے نماز پڑھنا ناممکن ہے۔پس جس طرح بعض کاموں کا کرنا واقعی ناممکن ہوتا ہے اسی طرح بعض کے متعلق یہ کہنا کہ میں نہیں کر سکتا نا ممکن ہے۔جس طرح یہ ناممکن ہے کہ دس سیر بوجھ اٹھانے کی طاقت رکھنے والا ایک من بوجھ اُٹھا لے اسی طرح یہ بھی ناممکن ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ میں نماز پڑھ ہی نہیں سکتا سوائے پاگل یا بے ہوش کے باقی سب لوگ نماز پڑھنے کی کسی نہ کسی صورت پر عمل کر سکتے ہیں۔تو انسان کے اندر بعض باتوں میں اتحاد ہوتا ہے اور بعض میں اختلاف اور بعض باتیں جن میں اتحاد ہے اور جن کے کرنے پر انسان قادر ہے ان میں شریعت امید رکھتی ہے کہ انسان کو اگر اپنے نفس پر جبر کر کے انہیں کرنا پڑے تو بھی کرے۔اگر واقعی کوئی شخص جھوٹ کو بُرا سمجھتا ہے مگر بعض اوقات عادت کے ماتحت جھوٹ بول لیتا ہے اور بعد میں احساس پر اظہار ندامت کرتا ہے یا بعض کی طبائع میں خشونت ہوتی ہے اور کسی وقت وہ خفگی اور سختی کا اظہار کر دیتے ہیں لیکن بعد میں انہیں اپنی سختی پر افسوس ضرور ہوتا ہے اور وہ اس سے جو نقصان ہوا اُس کا ازالہ کرنے کی فکر کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لئے تو بہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے اور ان کی توبہ