خطبات محمود (جلد 12) — Page 191
خطبات محمود 191 سال ۱۹۲۹ء چستی پیدا کر سکتا ہے۔ضروری نہیں کہ جماعت کے پریذیڈنٹ یا سیکرٹری کا ہی یہ فرض قرار دیا جائے جن میں خدا تعالیٰ نے یہ استعدادیں ودیعت کی ہوں وہ سب کے سب اسے سرانجام دیں۔میں نے دیکھا ہے مستعد آدمی جہاں جاتے ہیں وہاں کی جماعت میں ایک نئی زندگی پیدا کر دیتے ہیں مگر عام طور پر اس کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔یہی خیال کر لیا جاتا ہے کہ سب وعظ سنتے اور اخباریں پڑھتے ہیں پھر کسی کو سمجھانے کی کیا ضرورت ہے حالانکہ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں پڑھنے یا سننے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا انہیں جگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لئے ہمارا فرض ہے کہ جہاں تک خدا تعالیٰ نے کسی میں استعداد رکھی ہو اُس سے دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔یہی مساوات ہے جس کی تعلیم اسلام نے دی ہے۔مساوات یہ نہیں کہ قوم کا رو پید اکٹھا کر کے سب میں برابر تقسیم کر دیا جائے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جو استعداد اور خوبی ایک میں ہو دوسروں کو اس سے فائدہ پہنچایا جائے۔پس میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اگر وہ اس ثواب کمانے کے ذریعہ کی طرف متوجہ ہوں تو جماعت کے اندر ایسا تغیر پیدا ہو سکتا ہے کہ دنیا دیکھ کر دنگ رہ جائے جن کو اللہ تعالیٰ کسی نیکی یا قربانی کے کرنے کی توفیق دے انہیں چاہئے اسے کرتے وقت دوسروں کو بھی اس میں شامل کرنے کی کوشش کیا کریں اور اس طرح جماعت کو ایک لیول پر لانے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی اور مجھے بھی اس کی توفیق دے۔آمِيْنَ يَا رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفضل ۱۸۔اکتوبر ۱۹۲۹ء) بخاری کتاب الایمان باب الزكواة من الاسلام وقوله تعالى وما امروا الأ۔۔۔الخ ال عمران: ۱۰۵ ابراهيم: ۸ كنز العمال جلد ۶ روایت ۱۶۰۵۲ صفحه ۳۵۹ مطبوعہ بیروت ۱۹۷۹ء